الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 627
596 کیا غیر تشریعی نبی آ سکتا هے ؟ لیکن اس بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ یہ فلسفہ ماضی اور مستقبل دونوں پر یکساں اطلاق پاتا ہے۔آنحضرت ﷺ سے پہلے حضرت مسیح کو کیوں مبعوث کیا گیا؟ کیا قرآن کریم حضرت مسیح کے انکار کی وجہ سے یہودیوں کو کلیه ملعون قرار نہیں دیتا؟ اور پہلی قوموں کا کیا حشر ہوا؟ کیا انہوں نے خدا تعالیٰ کے فرستادوں کا انکار نہیں کیا اور ان کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا کا سلوک نہیں کیا گیا؟ بنی نوع انسان کے کبر اور نخوت کا یہ کیسا افسوس ناک منظر ہے! چنانچہ قرآن کریم فرماتا ہے: يُحَسْرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُوْلٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُ وَنَ ( يس 31:36) ترجمہ: وائے حسرت بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔حیرت کی بات ہے کہ خدا تعالیٰ کو اس لعنت کو ختم کر دینے کا خیال پہلے کیوں نہیں آیا۔انبیاء کے ساتھ واسطہ پڑنے کے لمبے تاریخی سفر کے دوران یہودیوں کا کیا حشر ہوا؟ کیا ان پر حضرت داؤد کی زبان سے لعنت نہیں ڈالی گئی؟ حضرت موسی" اور حضرت عیسی کے درمیانی عرصہ میں اہل کتاب کا کیا حال ہوا؟ کیا ہر زمانہ کے لوگوں کا خدا کے تمام انبیاء کے ساتھ ایسا غیر انسانی سلوک خدا تعالیٰ کو یہ باور کرانے کیلئے کافی نہیں تھا کہ نبوت رحمت نہیں بلکہ لعنت ہے۔پھر حضرت نوح ، حضرت ابراہیم اور حضرت لوط کی بعثت کا کیا مقصد تھا؟ کیا ان کی تکذیب کی وجہ سے ان کی اقوام پر خدا تعالیٰ کا غضب نازل نہیں ہوا؟ سوائے چند بظاہر بے حیثیت لوگوں کے کیا انہیں صفحہ ہستی سے مٹا نہیں دیا گیا؟ تاہم جو خیال مودودی صاحب کو سوجھا وہ خدا کو کیوں نہ سوجھ سکا۔خدا تعالیٰ کے بارہ میں یہ دیو مالائی تصور کہیں مودودی صاحب کے دماغ نے خود ہی تو نہیں گھڑ لیا ؟ ایسی ناقص رائے انہی کے دماغ کا شاخسانہ ہو سکتی ہے۔خدا تعالیٰ پیغمبر پر پیغمبر بھیجتا رہا لیکن متکبر لوگ ایک کے بعد دوسرے فرستادہ کا انکار کرتے رہے۔اس طرح وہ لوگ جس لعنت کے مورد ہوئے اس کی ذمہ داری نبوت پر عائد نہیں کی جاسکتی بلکہ وہ لوگ خود ہی اس کے ذمہ دار تھے۔اگر یہ دلیل کسی ایک زمانہ کیلئے قبول کر لی جائے تو پھر اسے حضرت آدم کے وقت سے لے