الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 597
566 ایڈز کا وائرس علیہ السلام کی بعثت اولی (حضرت عیسی کی صورت میں ) اور بعثت ثانیہ ( یعنی حضرت مرزا غلام احمد قادیانی کی صورت میں ) کے مابین پائی جاتی ہے۔یہاں پر پر انے اور نئے مسیح کے مابین پائی جانے والی مماثلت کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں۔تاہم یہ بتانا ضروری ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے مخالفین کو سزا دینے کیلئے طاعون کی وبا ایک نشان کے طور پر ظاہر ہوئی تھی۔تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی تکذیب کے بعد پہلی بار طاعون 65 عیسوی میں ظاہر ہوئی۔اسے اتفاق کہنے یا تقدیر، طاعون کی یہ وبا زیادہ تر انہی علاقوں میں پھیلی جہاں حضرت عیسی علیہ السلام کا پیغام پہنچا اور اس کا انکار کیا گیا تھا۔تقریباً ایک سو سال بعد یعنی 167 عیسوی میں طاعون دوبارہ ظاہر ہوئی۔اس دفعہ اس نے دنیا کے ایک بہت بڑے حصہ کو تباہ و برباد کر دیا جو دو براعظموں یعنی ایشیائے کو چک سے روم تک نیز گال (فرانس) اور مصر تک پھیلا ہوا تھا۔اس وقت ان تمام ممالک میں حضرت عیسی علیہ السلام کا پیغام پہنچ چکا تھا اور لوگوں کی ایک کثیر تعداد نے اسے رد کر دیا تھا۔جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا ہے چونکہ ان دونوں زمانوں میں باہمی مماثلت ہے اس لئے کچھ بعید نہیں کہ طاعون کی یہ نئی قسم اس صدی کے اختتام سے لے کر اگلی صدی کے آغاز تک اپنی انتہائی حدوں کو جا چھوئے۔ہمارا یہ اندازہ اس حقیقت پر مبنی ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پہلی بار جو طاعون پھوٹی تھی اس میں 1898ء سے 1904 ء تک غیر معمولی شدت تھی۔خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کس حد تک ان مشابہتوں کو تمام تر تفاصیل کے ساتھ دہرائے گا۔بہر حال اس آفت کے سلسلہ میں ہمیں ہمہ وقت تیار اور ہوشیار رہنا چاہئے۔ہماری دعا ہے کہ خدا تعالیٰ بنی نوع انسان کو اپنی اصلاح کی توفیق عطا فرمائے اور انہیں اس عالمگیر تباہی سے محفوظ رکھے۔اگر انسان اپنی اصلاح کرلے اور اسے سچی توبہ کی توفیق حاصل ہو جائے تو عین ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے عفو و درگزر کا سلوک فرمائے اور اسے گناہوں کے بداثرات سے بچالیا جائے۔لیکن افسوس کہ انسان کی تو بہ اور اصلاح احوال ایک محال امر نظر آتا ہے۔قطع نظر اس کے کہ کوئی اہل مذاہب میں سے ہے یا غیر مذہبی، مومن ہے یاد ہر یہ، جہاں تک انسان کی اخلاقی حالت کا تعلق ہے یوں لگتا ہے جیسے ساری دنیا گناہوں میں ڈوبی ہوئی ہو۔دیندار