الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 596
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 565 کرتی ہے کیونکہ اس میں بیماری کا تعلق ملکوں سے نہیں بلکہ ایک مخصوص اخلاقی جرم سے جوڑا گیا ہے۔جہاں کہیں بھی یہ اخلاقی جرم پھیلے گا وہیں یہ سزاوار د ہوگی۔لیکن یہ بیماری صرف انہی ممالک میں وبائی صورت اختیار کرے گی جو جنسی آزادی میں حد سے بڑھے ہوئے ہوں گے۔قطع نظر اس کے کہ یہ کون سے ممالک ہیں یا ان کی آبادی زیادہ تر عیسائی ہے یا ہندو یا مسلمان، اس کا سبب ممالک یا مذاہب نہیں بلکہ اصل سبب بے محابا جنسی آزادی ہے۔لہذا جہاں کہیں بھی وجہ موجود ہوگی و ہیں نتیجہ سامنے آجائے گا۔اس پیشگوئی میں دوسرے ممالک کو چھوڑ کر بالخصوص یورپ اور دیگر عیسائی ملکوں کے ذکر کی وجہ شاید یہ ہو کہ جنسی بے راہ روی کی روز افزوں قومی سطح پر اشاعت اور اسے ایک سماجی رویہ کی حیثیت اختیار کرتے ہوئے دنیا میں کسی اور جگہ نہیں دیکھا گیا۔مغربی ممالک کے علاوہ کسی اور جگہ ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ نہیں دیا گیا اور نہ ہی عیسائیت کے علاوہ کسی اور مذہب میں ہم جنس پرستی کا ذکر ملتا ہے۔یادر ہے کہ بظاہر تو یہ ممالک عیسائی کہلاتے ہیں لیکن حقیقت میں عیسائی اقدار سے بہت دور ہیں۔جہاں تک مسلمان ممالک کا تعلق ہے تو انہیں بھی اسلام کا صحیح محافظ قرار نہیں دیا جاسکتا۔اس لئے اگر ہندو یا مسلمان ممالک میں بھی بطور سماجی رویہ کے جنسی بے راہ روی اور بے حیائی کی حرکات کا اظہار ہو تو بعید نہیں کہ وہ بھی اسی آفت کا نشانہ بن جائیں۔ایڈز کی وبا دنیا کے تمام براعظموں میں پھیل چکی ہے۔شاید ہی کوئی ہو جو اس کے خطرات سے شناسا نہ ہو۔تا ہم سادہ لوحی سے یہ سمجھ لینا درست نہیں ہو گا کہ اس بیماری کے تمام خطرناک پہلوؤں کا کامل علم ہو چکا ہے اور نہ ہی یہ خیال صحیح ہوگا کہ ایڈز نے جو کرنا تھا کر لیا۔اب جلد ہی اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔وہ لوگ نادان ہیں جو یہ امید لگائے بیٹھے ہیں کہ جلد ہی سائنسی تحقیق ایڈز کے وائرس کے خلاف کوئی مؤثر تریاق تیار کر لے گی۔ہم اس بارہ میں کسی خوش فہمی میں مبتلا نہیں ہیں بلکہ اس کے برعکس ہمیں تو یہ خدشہ ہے کہ اس مہلک مرض کا بڑا حملہ ابھی باقی ہے۔اس موقف کی تائید میں ہم جو دلیل پیش کرتے ہیں اس کا تعلق اس عمومی مماثلت سے ہے جو حضرت مسیح