الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 583
552 طاعون کا نشان نگاه جذبات سے نہال ہو گئے۔آپ کی معرکۃ الآراء کتاب براہین احمدیہ کے پہلے چند نسخے شائع ہونے کے ساتھ ہی آپ کی شہرت سارے برصغیر میں اپنے کمال کو پہنچ گئی۔ممتاز مسلمان علماء کی طرف سے آپ کو عظیم خراج تحسین پیش کیا گیا اور آپ کی تعریف میں مسلم اخبارات نے نمایاں مقالے شائع کئے لیکن تعریف و توصیف کا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک جاری نہ رہا۔صورت حال اچانک اس وقت تبدیل ہوگئی جب آپ نے یہ دعویٰ فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے آپ پر الہام کے ذریعہ یہ ظاہر کیا ہے کہ مسیح ابن مریم فوت ہو چکے ہیں اور صلیب سے نجات پانے کے ایک عرصہ بعد دوسرے انبیاء کی طرح آپ کی طبعی وفات ہوئی۔نیز آپ نے دعوئی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت مسیح علیہ السلام کے نام پر اور ان کے رنگ میں رنگین فرما کر مسیح کی آمد ثانی کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اس آخری زمانہ میں مبعوث فرمایا ہے۔اس موضوع پر اس کتاب کے آخر پر تفصیل سے ذکر کیا جائے گا۔سر دست یہی کہنا کافی ہوگا کہ دعویٰ سے قبل آپ کی شہرت آسمان کی بلندیوں کو چھورہی تھی لیکن دعوی کے فوراً بعد ہر طرف سے آپ پر انگشت نمائی ہونے لگی۔گواب بھی آپ کے نام کا ڈنکا برصغیر میں بج رہا تھا مگر اب نہ تو آپ کو پہلا سا عزت و احترام دیا جارہا تھا اور نہ ہی پہلی سی امیدیں اور توقعات آپ سے وابستہ کی جارہی تھیں۔اور خود امت مسلمہ ہی مخالفین اسلام کی سرکوبی کرنے والے اس پہلوان کی مخالفت پر تل گئی۔دوست دشمن ہو گئے اور چاہنے والے موت کے در پے۔انہیں حضرت مسیح علیہ السلام کی موت گوارا نہ تھی اور نہ ہی وہ یہ ماننے کیلئے تیار تھے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا ظہور ثانی مسلمانوں میں بروزی رنگ میں ہوگا۔حضرت بانی سلسلہ احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کو گالیاں دی گئیں تہمتیں لگائی گئیں، دشنام دہی سے کام لیا گیا اور اتنی شدید مخالفت ہوئی جس کی نظیر سارے برصغیر میں نہیں ملتی۔ایسے وقت میں جب اپنے پرائے سب آپ کے جانی دشمن ہو رہے تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تسلی دی کہ وہ آپ کو کبھی بھی اکیلا اور بے یارومددگار نہیں چھوڑے گا۔آپ کی مخالفت اور تکذیب کرنے والوں کی وسیع تر ہلاکت کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے آپ کو پیش خبریاں عطا فرمائیں جو لوگوں کے لئے عبرت کا نشان بن گئیں۔لیکن انہوں نے توجہ نہ دی اور اپنی اصلاح نہ کی اور آپ کو ہر قدم پر جھٹلایا۔مگر عذاب الہی کی ان پیشگوئیوں کو جھٹلانا ممکن نہ تھا۔