الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 570 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 570

الهام ، عقل ، علم اور سچائی ا 539 راز دریافت کر کے اس میں موجود بے انتہا تو انائی سے آگہی حاصل کی ہے یہ بات قابل فہم ہوگئی ہے۔یہی وہ دور ہے جب باریک ترین ذرات میں چھپی ہوئی آگ باہر نکل کر ہزار ہا مربع میل علاقہ کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔اس کی زد میں آنے والی انسان سمیت ہر چیز تباہ ہو جائے گی۔حیرت چنانچہ وہ بات جو آج سے چودہ سو سال قبل غیر حقیقی دکھائی دیتی تھی اسے آج کا بچہ بچہ جانتا ہے۔رت اور مبالغہ آرائی کا کوئی بھی محاورہ اس پیشگوئی کی عظمت کے بیان کا حق ادا نہیں کر سکتا۔کیا یہ حقیقت کم حیرت انگیز ہے کہ اس زمانہ کے لوگ اس چھوٹی سی سورۃ یعنی الهمزة کو سمجھنے سے قاصر رہے۔وگرنہ اس کا اثر دلوں کی بجائے ان کے ایمان و اعتقاد پر ہوتا۔عقل اس بات کو تسلیم نہیں کرتی کہ یہ عظیم الشان پیشگوئیاں ان کی توجہ کا مرکز نہیں بن سکیں۔شاید ان کا خیال ہو کہ ان آیات کا تعلق اس دنیا کے واقعات سے نہیں، آخرت سے ہے۔بہت سے مفسرین نے ان آیات کی تفسیر کی کوشش ہی نہیں کی۔اور جنہوں نے اس مشکل کام کو اپنے ذمہ لیا وہ یہ کہہ کر بری الذمہ ہو گئے کہ یہ تو دوبارہ جی اٹھنے کی باتیں ہیں۔اور اس طرح ان تمام پیشگوئیوں کے معانی پر غور کرنے کی کوشش ہی نہیں کی۔مغربی مستشرق سیل (Sale) کو بھی حُطمہ کا لفظی ترجمہ کرنے میں مشکل پیش آئی۔اس نے حُطمہ کا لفظی ترجمہ کئے بغیر صرف یہ لکھا کہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد حُطمہ میں ڈالی جائے گی۔اس طرح اس نے انگریزی جاننے والوں کی اس ممکنہ بے یقینی کو دور کر دیا جس کا انسان کے چھوٹے چھوٹے ذرات میں ڈالے جانے کے ترجمہ سے پیدا ہونے کا احتمال تھا۔چنانچہ حُطمہ کے درست معنی معلوم نہ ہونے کی وجہ سے قاری کے ذہن میں حُطمہ کے معنی کسی بڑے کمرہ میں جلتی ہوئی آگ کے آتے ہیں۔اس حکمت عملی نے سیل (Sale) کو غلط ترجمہ سے پیدا ہونے والی شرمندگی سے تو بچالیا لیکن وہ اس عظیم الشان پیشگوئی کا حق ادا کرنے میں ناکام رہا۔اس آیت میں مذکور آگ کا تعلق خواہ اس دنیا سے ہو یا آخرت سے، اسے کسی بھی طرح بار یک ترین ذرات میں بند نہیں کیا جا سکتا۔چونکہ ایٹمی دور کے ارتقا سے قبل اس قسم کی آگ کا کوئی تصور ہی موجود نہیں تھا اس لئے سیل اور دیگر پہلے مفسرین کو اس کے حل کرنے میں مشکل در پیش