الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 558 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 558

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 529 کے مسلسل عذاب کی وعید ہے۔سورۃ التکویر کی تیرہویں آیت جو ذیل میں درج ہے، میں بعینہ اسی مضمون کا ذکر ہے جسے اب ہم تفصیل سے بیان کریں گے۔وَإِذَا الجَحِيمُ سُعْرَتْ (التكوير (13:81) ترجمہ: اور جب جہنم بھڑکائی جائے گی۔یہاں جہنم کی آگ سے وہ جنگیں مراد ہیں جن سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ گویا جہنم کے دروازے کھول دیئے گئے ہوں۔چنانچہ اس آیت میں اسی وعید کا ذکر ہے۔مذکورہ بالا پیشگوئیوں کے سیاق و سباق میں جو اس دنیا کے واقعات سے تعلق رکھتی ہیں ، یہی ایک توجیہ ممکن ہے۔یہ بڑی عجیب بات ہوگی اگر یہ کہا جائے کہ جب یہ واقعات زمین پر رونما ہورہے ہوں گے تو عالم آخرت میں بھی جہنم بھڑک رہی ہوگی۔یوں یہ پیشگوئیاں ایک ترتیب اور تسلسل کے ساتھ اپنے منطقی نتیجہ کو پہنچتی ہیں۔یعنی اگر انسان دنیوی خواہشات کے حصول کی خاطر رضائے باری تعالیٰ کو پس پشت ڈال دے تو وہ کتنی ہی مادی ترقی کیوں نہ کرلے، اس کیلئے ایسی ترقی بے سود ہوگی۔تمام تر مادی قوت و حشمت کے باوجود انسان سزا کی گھڑی سے نہیں بچ سکتا۔وہ تو بہر حال آکر رہے گی۔آسمان سے کوئی عذاب اس پر نازل نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے لئے خود ہی جہنم کی آگ بھڑکائے گا اور اس کی خود غرضی ایسی عالمگیر کشیدگی کو جنم دے گی جو بالآخر ایسی جنگوں پر منتج ہو گی جن پر جہنم کا گمان ہوگا۔گزشتہ دو عالمگیر جنگوں کی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے اس تشریح کو محض قیاس آرائی قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک حقیقی خطرہ کی نشاندہی کرتی ہے۔اس صورت حال نے اسلام کے المناک زوال اور غیر مسلم طاقتوں کے عروج کے مابین پائے جانے والے تضاد کو نمایاں کر دیا ہے۔زیر نظر آیت صاف ظاہر کرتی ہے کہ مادیت کا عالمگیر غلبہ ہمیشہ نہیں رہے گا۔مادی طاقتوں کا زوال ان کی باہمی دشمنی کے ساتھ شروع ہو جائے گا جو ایسی خوفناک تباہی پر منتج ہو گی جس کے ذمہ دار وہ خود ہوں گے۔جنگوں پر جنگیں ہوں گی جن کے نتیجہ میں بڑی بڑی طاقتیں خاکستر ہو کر رہ جائیں گی۔دو عالمگیر جنگوں نے پہلے ہی عالمی طاقتوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے جبکہ اس کے برعکس کمزور اور غریب قومیں اپنے وقار کی کسی قدر بحالی کے احساس کے ساتھ ابھری ہیں۔لیکن طاقت کا توازن ابھی خطرناک حالت تک نہیں