الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 553 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 553

524 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم دنیا بھر کے ممالک سے یوں اکٹھا کر کے واپس لایا گیا ہو جیسا کہ ماضی قریب میں اسرائیل کے قیام کے بعد ہوا۔سورۃ التکویر کی طرف دوبارہ لوٹتے ہوئے اب ہم اس کی نویں آیت کا ذکر کرتے ہیں۔یہ اور اس سے اگلی آیت اسی زمانہ کے متعلق ہیں جس پر ان سے پہلی آیات مختلف پہلوؤں سے روشنی ڈالتی ہیں۔وَإِذَا الْمَوْا دَةُ سَبِلَتْ بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ 8 ( التكوير 9:81-10) ترجمہ: اور جب زندہ درگور کی جانے والی (اپنے بارہ میں ) پوچھی جائے گی (کہ) آخرکس گناہ کی پاداش میں قتل کی گئی ہے؟ زمانہ جاہلیت میں بعض عرب بیٹی کی پیدائش کو اپنی تو ہین سمجھتے تھے اور شرم کے مارے اسے زندہ درگور کر دیا کرتے تھے۔معاشرہ کو ان معاملات میں مداخلت کا کوئی حق نہیں تھا۔بالفاظ دیگر اولا د کو گویا باپ کی ملکیت ہی تصور کیا جاتا تھا۔اس آیت سے واضح طور پر پتہ چلتا ہے کہ آخری زمانہ میں قانون کی حکمرانی ہوگی۔تاہم خاص طور پر حقوق نسواں کے حوالہ سے اس میں پیغام موجود ہے۔ورنہ قانون کی حکمرانی سے متعلق تو سادہ بیان ہی کافی تھا۔اس لئے اس وضاحت کی روشنی میں اس پیغام کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔اس آیت کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ مرد کبھی بھی حقوق نسواں کو تخفیف کی نظر سے نہیں دیکھ سکیں گے۔چنانچہ حقوق نسواں کو جس قدر اہمیت عصر حاضر میں حاصل ہوئی ہے اس سے پہلے کبھی نہیں ہوئی۔قرآن کریم کی اس سورۃ میں آخری زمانہ کے خدو خال کا نقشہ جس خوبصورت ترتیب اور منظم انداز میں کھینچا گیا ہے اس پر کسی ماہر مصور کی پینٹنگ کا گمان ہوتا ہے۔ان آیات میں جن مسلسل سائنسی ترقیات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان کا آخری زمانہ کے سائنسی اور معاشرتی حالات سے گہرا تعلق ہے۔آٹھویں آیت میں بنی نوع انسان کے ایک سے زائد ذرائع سے اکٹھا ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔گیارہویں آیت میں بھی معاشی اور سیاسی ترقیات کے ذکر سے اسی موضوع کو طاقتور ذرائع رسل در سائل یعنی ادب، اخبارات اور رسائل کی وسیع تر اشاعت کے حوالہ