الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 552 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 552

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 523 مندرجہ بالا تینوں مفاہیم بڑی صراحت سے بچے ثابت ہو چکے ہیں۔ہمارے زمانہ میں بین الاقوامی معاہدات کے ذریعہ تمام اقوام عالم کو بلا استثناء عملاً اکٹھا کر دیا گیا ہے۔لہذا یہ معنے تو بالبداہت درست ثابت ہو چکے ہیں اور اس کی مزید وضاحت کی چنداں ضرورت نہیں۔اسی طرح انجمن اقوام عالم کے قیام نے بھی، جس کی جگہ بعد میں اقوام متحدہ نے لے لی، بالآخر اتحاد عالم کو تقویت دی ہے جیسا کہ پیشگوئی میں بتایا گیا تھا۔جہاں تک اس آیت میں تیسری پیشگوئی کے پورا ہونے کا تعلق ہے، ہم پہلے ہی بتا چکے ہیں که جدید ذرائع نقل و حمل کی وجہ سے فاصلے سمٹ گئے ہیں جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ گویا پوری دنیا سکڑ کر ایک گاؤں کی شکل اختیار کر چکی ہے۔اس موضوع پر مزید گفتگو سے پہلے مناسب ہوگا کہ ایک اور پیشگوئی کا ذکر کیا جائے جس کا تعلق بھی لوگوں کے اکٹھا کئے جانے سے ہے۔اس پیشگوئی میں بنی اسرائیل کے آخری زمانہ میں ارض موعودہ کی طرف واپس آنے کا ذکر ہے۔و قُلْنَا مِنْ بَعْدِهِ لِبَنِي إِسْرَاوِيْلَ اسْكُنُوا الْأَرْضَ فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ الْآخِرَةِ جِئْنَا بِكُمْ لَفِيْنَات (بنی اسرائیل 105:17) ترجمہ: اور اس کے بعد ہم نے بنی اسرائیل سے کہا کہ موعودہ سرزمین میں سکونت اختیار کرو۔پس جب آخرت کا وعدہ آئے گا تو ہم تمہیں پھر اکٹھا کر کے لے آئیں گے۔70 عیسوی میں رومیوں کے ہاتھوں یروشلم کی تباہی یہودی ریاست کے خاتمہ کا اعلان تھا۔اس کے بعد یہودی ساری دنیا میں منتشر ہو گئے اور ملک ملک پھرتے رہے۔یہود کے اسی آخری انتشار کی طرف مندرجہ بالا آیت اشارہ کرتی ہے جس میں یہ اعلان کیا گیا ہے کہ ایک دن ساری دنیا کے یہود کو اکٹھا کر کے ارض مقدس میں واپس لایا جائے گا۔یہ وہ خدائی وعدہ ہے جو بہر حال پورا ہو کر رہے گا۔ہم اس وعدہ کو اتنے وسیع پیمانہ پر پورا ہوتے دیکھ چکے ہیں کہ اس سے پہلے کسی انسان نے نہ دیکھا ہو۔ساری یہودی تاریخ میں اس قسم کا ایک واقعہ بھی نہیں ملتا کہ یہود کو جلا وطنی کے بعد