الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 30 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 30

30 اسلامی مکاتب فکر تھے جو اندلس سے علم کی روشنی جنوبی فرانس بلکہ اس سے بھی آگے تک لے کر گئے۔ارسطو اور افلاطون کا فلسفہ ہسپانیہ کے مسلمان فلسفیوں کے ذریعہ یورپ تک پہنچنا شروع ہوا۔اس وقت حاذق طبیب ابن سینا کے کمال طب اور دنیوی اور مذہبی فلسفہ اور سائنس کو اپنی ذات میں یکجا کرنے والے ابن رشد کی دانشمندی نے یورپ کے تاریک افق کو روشن کرنا شروع کر دیا۔یہودیوں کے اس اخراج کے باعث یہ علوم عام ہو گئے اور ان کے مختلف یورپین زبانوں میں ترجمے کئے جانے لگے۔در حقیقت انہی لوگوں نے یورپ میں علم و حکمت اور آگہی کے نئے دور کی داغ بیل ڈالی جو یورپ کی نشاۃ ثانیہ کے نام سے موسوم ہے۔ہسپانوی دور کے بعد کے زمانہ پر نظر ڈالی جائے تو تمام عالم اسلام کی حالت زار عالم اسلام ہمیں علی پژمردگی کے المناک اندھیروں میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔سپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد دیگر مسلم ممالک نے بھی سائنسی علوم میں دلچسپی لینا چھوڑ دی اور تحقیق و جستجو کا وہ شوق جاتا رہا جسے خود مسلمانوں نے فروغ دے کر کمال تک پہنچایا تھا۔یہ افسوسناک رجحان نہ صرف سائنس بلکہ مذہب کیلئے بھی بیحد نقصان دہ ثابت ہوا اور امت مسلمہ تفرقہ کا شکار ہو کر مختلف فرقوں اور گروہوں میں تقسیم ہو گئی یہاں تک کہ توحید خالص کا عظیم عقیدہ بھی خود کشی کے اس رجحان کی زد میں آ گیا۔توحید باری کے تصور میں دراڑیں پڑنے لگیں۔یوں لگتا تھا جیسے وہ ایک خدا کی بجائے مختلف خداؤں کی باتیں کر رہے ہوں۔ان کی علمی پیاس تو کم نہ ہوئی لیکن ترجیحات بدل گئیں۔اگر چہ موضوع بحث تبدیل ہو گیا مگر خیر وشر سے متعلق بحث کا سلسلہ پورے جوش و خروش سے جاری رہا۔بایں ہمہ یہ سوالات بھی وہی تھے جنہوں نے انہیں صدیوں سے مضطرب کر رکھا تھا۔سنجیدہ اور بنیادی نوعیت کے عملی مسائل کی بجائے وہ فروعی فقہی مسائل میں الجھ کر رہ گئے۔مثلاً یہ کہ کوے کا گوشت حلال ہے یا حرام۔اس سوال پر مخالف آراء رکھنے والوں کے درمیان فسادات پھوٹ پڑنے کا ذکر بھی ملتا ہے۔ان مسائل پر جو تند و تیز مباحثے ہوئے وہ پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتے چلے گئے۔ان کی ذہانت کو اس اعتبار سے داد دینا پڑتی ہے کہ وہ رائی کا پہاڑ بنا سکتے تھے۔لیکن یہ خراج تحسین اس امر کا غماز ہے کہ ان میں عقلِ سلیم نام کی