الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 29 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 29

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 29 میں وہ چنگیز خان اور ہلاکو خان جیسے بیرونی حملہ آوروں کی دست برد سے محفوظ رہا۔اسلامی تاریخ کا یہ اندلسی دور صحیح معنوں میں عقلیت پسندی کا زریں دور قرار دیا جا سکتا ہے۔اندلس سے مسلمانوں کے خروج کے ساتھ ہی ان کی علمی برتری کا عظیم الشان عہد ختم ہو گیا اور اہل ہسپانیہ کے اسلام کے ساتھ ہر قسم کے روابط منقطع ہو گئے۔اگر دنیا میں کہیں علم و دانش اور سائنسی ترقی کا زوال ہوا تو یہ المیہ اندلس کی سرزمین پر ہوا۔یہ کیا ہی دردناک واقعہ تھا۔اندلس کے جنوبی کنارے سے مسلمانوں کے خروج کے ساتھ ہی وہاں سے دانائی علم و دانش، انصاف پسندی، سچائی اور روشنی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ غالباًا صدیوں تک کیلئے رخصت ہوگئی لیکن روشنی کے اس سیلاب شد نے ان مسلمان جلا وطنوں کا ساتھ نہ دیا اور ہسپانیہ ایک بار پھر قبل از اسلام کی سی جہالت کی تاریکی میں ڈوب گیا۔ان دنوں دیگر اسلامی ممالک کی حالت بھی کچھ اس سے بہتر نہیں تھی۔وہاں تاریکی اندر ہی اندر سے پھوٹ رہی تھی۔مذہبی تعصبات، ہٹ دھرمی ، تنگ نظری نخوت، خود پسندی اور باہمی حسد کی آگ کے شعلے جہنم کی آگ کی طرح بھڑک رہے تھے۔ایک گونہ دھوئیں کا بادل تھا جو پھیلتے پھیلتے آسمانی نور کے رستے میں حائل ہو گیا۔اس بڑھتی ہوئی گھٹا ٹوپ تاریکی میں زمین چھپ سی گئی اور مرورِ زمانہ کے ساتھ ساتھ اس کے سائے اور بھی گہرے ہوتے چلے گئے۔جہاں تک شمالی یورپ کے باشندوں کا تعلق ہے یہ ایک بالکل مختلف داستان ہے۔ہسپانیہ کے لوگوں نے جو کھویا تھا وہ ان لوگوں نے پالیا اور کیا ہی خوب پایا! وہی ملکہ ازابیلہ اور بادشاہ فرڈیننڈ جنہوں نے مسلمانوں کو ملک سے نکال باہر کیا تھا، متعصب اور منتشر د پادریوں کے روز افزوں رسوخ کے زیر اثر ، اپنے غیظ و غضب کا رخ یہودیوں کی طرف موڑ دیا اور جس طرح اندلس کے جنوبی دروازوں سے مسلمانوں کو باہر دھکیل دیا گیا اسی طرح شمالی سپین سے یہودیوں کی بھاری اکثریت کو ملک بدر کر دیا گیا۔ان میں بڑے بڑے علماء، فضلاء، سائنسدان اور عظیم دانشور بھی تھے جو کئی ایک شعبوں میں صاحب کمال تھے۔انہوں نے سات صدیوں پر محیط مسلم حکومت کے سنہری دور میں متعدد فنون پر عبور حاصل کر لیا تھا۔انہیں صنعت و حرفت، تجارت، سائنسی تحقیق، فن تعمیر ، سنگ تراشی اور جراحی جیسے شعبہ ہائے زندگی میں کمال حاصل تھا۔ان سب کو ایک منظم اور مستقل اذیت ناک منصوبہ کے تحت تمام املاک سے بے دخل کر کے جلاوطن کر دیا گیا۔یہی وہ لوگ