الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 544

الهام ، عقل ، علم اور سچائی آباؤ اجداد عیسائی تھے اس لئے وہ بھی وراشتا در اصل عیسائی ہی ہیں لہذا انہیں ملکہ کے عقیدہ ہی بے شمار مسودات پر 517 کو اختیار کر لینا چاہیئے۔4 یوں پین میں اسلام کے اختتام کا آغاز ہوا جسے کم و بیش دو سو سال کا تکلیف دہ عرصہ لگا۔” مساجد بند کر دی گئیں۔مسلمانوں کے علمی ذخیرہ کو جو صدیوں کی تحقیق اور محنت کا ثمر تھا اور مشتمل تھا، بے رحم پادریوں نے جلا کر راکھ کر ڈالا۔اور ان غریب بے بس کفار کو تشددکا نشانہ بنایا گیا تا کہ وہ مقدس انجیل کی رواداری اور امن کی تعلیم پر ایمان لے آئیں۔اور انہیں اسی انداز میں زدو کوب کیا گیا جس طرح کی تھولک فرمانرواؤں کی خوشنودی کی خاطر غریب یہودیوں کو مارا پیٹا جاتا تھا۔اکثریت نے بلاشبہ ہتھیار ڈال دیئے اور اپنے گھروں کی تباہی کی بجائے مذہب کو قربان کرنا زیادہ آسان خیال کیا۔البتہ الیکارس (الفراس) 566 Alpuxarras کے پہاڑی لوگوں کے سینوں میں ایمان کی شمع بدستور روشن رہی۔5 وو سپین کے حکمرانوں کا Moriscos کے باشندوں سے سلوک نہ تو دانشمندانہ تھا اور نہ ہی دیانتدارانہ۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وہ ظلم وستم میں بڑھتے ہی چلے گئے۔ان کفار کو حکما مجبور کیا گیا کہ وہ اپنا آبائی خوبصورت اور دیدہ زیب لباس چھوڑ کر عیسائیوں کا مخصوص لباس یعنی ہیٹ اور تنگ پتلون پہننا شروع کر دیں۔غسل کی عادت ترک کر کے اپنے فاتحین کی طرح گندگی اختیار کر لیں۔اپنی زبان، روایات اور تہواروں حتی کہ اپنے ناموں سے دستکش ہو کر ہسپانوی بولیں، ہسپانوی رویہ اپنائیں اور خود کو ہسپانوی کہنا شروع کر دیں۔“ 65 اب یہ کام فلپ ثانی کے سپرد ہوا کہ وہ ان ظالمانہ قوانین کو عملی جامہ پہنائے جن کے نفاذ سے اس کے باپ نے بڑی ہوشیاری سے پہلو بچا لیا تھا۔چنانچہ 1567ء میں اس نے زبان اور رسم و رواج وغیرہ سے متعلق گھناؤنے اور مکروہ قوانین نافذ کئے اور انسداد صفائی کے قانون 750 کا جواز ثابت کرنے کے لئے الحمرا کے خوبصورت غسل خانوں کو مسمار کرنا شروع کر دیا۔7 1569-70 کے موسم سرما میں اس ( ڈان جان ) نے اپنی مہم کا آغاز کیا اور مئی میں ہتھیار ڈالنے کی شرائط کو آخری شکل دے دی گئی۔اس سارے درمیانی عرصہ میں خون کے دریا بہا