الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 534
الهام ، عقل ، علم اور سچائی ترجمہ: اور تو کہہ اے میرے رب! مجھے اس طرح داخل کر کہ میرا داخل ہونا سچائی کے ساتھ ہو۔اور مجھے اس طرح نکال کہ میرا نکلنا سچائی کے ساتھ ہو۔507 پھر تیسری مثال کہ آنحضرت ﷺ کس طرح عظیم الشان فتح کے ساتھ مکہ واپس تشریف لائیں گے، ہجرت سے بھی پہلے کی پیشگوئی ہے جو سورۃ الروم کی پہلی چند آیات میں مذکور ہے۔مفسرین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ سورۃ ہجرت سے قبل نازل ہوئی تھی۔آیات درج ذیل ہیں۔غلبتِ الرُّوْمُ فِي أَدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ فِي بِضْعِ سِنِينَ لِلَّهِ الْأَمْرُ مِنْ قَبْلُ وَمِنْ بَعْدُ وَيَوْمَ بِذِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ ) بنصر الله ينصَرُ مَن يَشَاءُ ن يَشَاءُ وَهُوَ الْعَزِيزُ الرَّحِيمُ ) (الروم 3:30-6) ترجمہ: اہل روم مغلوب کئے گئے قریب کی زمین میں۔اور وہ اپنے مغلوب ہونے کے بعد پھر ضرور غالب آئیں گے تین سے نو سال کے عرصہ تک حکم اللہ ہی کا ( چلتا ) ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔اور اس دن مومن ( بھی اپنی فتوحات سے ) بہت خوش ہوں گے۔(جو ) اللہ کی نصرت سے ( ہوں گی )۔وہ نصرت کرتا ہے جس کی چاہتا ہے اور وہ کامل غلبہ والا ( اور ) بار بار رحم کرنے والا ہے۔ان آیات میں ایرانیوں کے ہاتھوں رومیوں کی جزوی علاقائی شکست کا ذکر ہے۔نیز واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ ایرانی فتح عارضی ہو گی اور پھر چند سالوں میں رومیوں کی شکست فتح میں بدل جائے گی۔اس دن مومن بھی اس تائید پر بہت خوش ہوں گے جو انہیں اللہ تعالی کی طرف سے حاصل ہوگی اس پیشگوئی کا مسلمانوں سے تعلق صاف ظاہر ہے کیونکہ اس کے نزول کے تھوڑے ہی عرصہ بعد مسلمانوں کو مشرکین مکہ کی مخالفت کی وجہ سے اپنے گھر اور جائدادیں اسی طرح چھوڑنا پڑیں جس طرح رومیوں نے بت پرست ایرانیوں کی وجہ سے چھوڑی تھیں۔اس لئے تمام صحابہ کی متفقہ رائے یہی تھی کہ رومیوں کی فتح کے جلد بعد مسلمان بھی اپنے علاقہ یعنی مکہ کو دوبارہ حاصل کر لیں گے۔اختلاف صرف بضع سنین کے بارہ میں تھا کہ یہ پیشگوئی کب پوری ہوگی کیونکہ لغوی طور پر اس سے مراد تین سے نو سال تک کا عرصہ ہوتا ہے۔چنانچہ آپ ﷺ کے بعض صحابہ