الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 533 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 533

506 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم ہجرت کے بعد مکہ واپسی سے ہے۔ایسی تمام آیات آپ ﷺ کی ہجرت مدینہ سے پہلے کی ہیں جن میں بیک وقت ہجرت اور واپسی کی پیشگوئیاں موجود ہیں۔درج ذیل آیت سورۃ القصص کی ہے جو ہجرت سے پہلے نازل ہوئی تھی۔إِنَّ الَّذِي فَرَضَ عَلَيْكَ الْقُرْآنَ لَرَآتُكَ إِلى مَعَادٍ قُل رَّبِّي أَعْلَمُ مَنْ جَاءَ بِالْهُدَى وَمَنْ هُوَ فِي ضَيْلٍ مُّبِينٍ (سورة القصص 86:28) ترجمہ: یقینا وہ جس نے تجھ پر قرآن کو فرض کیا ہے تجھے ضرور ایک واپس آنے کی جگہ کی طرف واپس لے آئے گا۔تو کہہ دے میرا رب اسے زیادہ جانتا ہے جو ہدایت لے کر آتا ہے اور الله اسے بھی جو کھلی کھلی گمراہی میں ہے۔آنحضرت ﷺ کی ہجرت مدینہ سے پہلے ہی واپسی کی یہ پیشگوئی در حقیقت دوہری اہمیت کی حامل ہے۔مسلسل بڑھتی ہوئی مخالفت کے پیش نظر جس کی وجہ سے آپ ﷺ کی اور آپ علی کے اصحاب کی زندگی مکہ میں ناممکن ہوتی جارہی تھی، بعض قارئین کے نزدیک ہجرت اس کا ایک منطقی نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔لیکن یہ امر یادر ہے کہ اس پیشگوئی میں حیرت کے عنصر کا ہجرت کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بلکہ حیران کن امر تو یہ ہے کہ اس آیت میں مکہ والوں کے فیصلے اور طاقت کو کھلم کھلا چیلنج کیا گیا ہے جو ہر گز نہیں چاہتے تھے کہ یہ ہجرت ممکن ہو سکے جس کے بارہ میں پہلے سے بتا دیا گیا ہو۔اسی طرح مشرکین مکہ کی بڑھتی ہوئی ضد کہ وہ آنحضور ﷺ کو بیچ کر نکلنے کی اجازت نہیں دیں گے، ایسے عوامل ہیں جو ظاہر کرتے ہیں کہ یہ پیشگوئی آپ ﷺ نے اپنی اس الله انتہائی مظلومیت اور بے بسی کی حالت میں خود بخوداپنی طرف سے نہیں بنالی ہوگی۔ایک اور الہی وعدہ کہ آپ ﷺ فاتحانہ شان کے ساتھ یقیناً مکہ واپس آئیں گے، مندرجہ ذیل آیت میں مذکور ہے: وَقُل رَّبِّ اَدْخِلُنِى مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ أَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ (بنی اسرائیل 81:17)