الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 532
505 الهام ، عقل ، علم اور سچائی مطابق تاجپوشی سے وفات تک منفتاح کا سارا عہد حکومت آٹھ سال یا اس سے بھی کم مدت پر مشتمل ہے۔مزید برآں تاریخ بتاتی ہے کہ منفتاح ایک جنگجو بادشاہ تھا جو کئی سال فلسطینیوں پر مسلسل حملے کرتا رہا۔جبکہ قرآن کریم اور بائیل دونوں ہی فرعون موسیٰ کے اسرائیل پر ایسے حملوں کے بارہ میں مکمل طور پر خاموش ہیں۔لیکن یہاں اس معاملہ کی تفصیل میں جانا مناسب معلوم نہیں ہوتا اور نہ ہی یہ ثابت کرنے کی ضرورت ہے کہ یہ خروج رمسیس خانی کے دور میں ہوا یا منفتاح کے دور میں۔جب تک دونوں کی ممیاں محفوظ ہیں، دونوں ہی ہمیشہ کے لئے قرآنی پیشگوئی پر مہر تصدیق ثبت کرتے رہیں گے۔ناموں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ کی مستقبل قریب اور بعید کی پیشگوئیاں مصری تاریخ کے بعض اہم واقعات کو جونزول قرآن کے وقت تک پردہ اخفاء میں تھے، قدرے تفصیل سے بیان کرنے کے بعد اب ہم قرآن کریم کی بعض ایسی پیشگوئیوں کا ذکر کرتے ہیں جن کا کئی دیگر واقعات سے تعلق ہے جو انسان کی معاشرتی، مذہبی، سیاسی اور عہد ساز انقلابی سائنسی ترقیات سے متعلق ہیں اور جنہوں نے مستقبل میں دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دینا تھا۔ان میں سے کچھ پیشگوئیاں ایسے اہم موسمی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے بارہ میں بھی ہیں جو سائنسی ایجادات اور صنعتی پھیلاؤ کے نتیجہ میں رونما ہونے والی تھیں۔قرآن کریم کی آخری چند سورتوں میں خصوصیت سے ایسی پیشگوئیوں کی ایک لمبی فہرست موجود ہے۔لیکن یہ تفصیل انہی سورتوں تک محدود نہیں ہے اور یہ بحث یہیں پر ختم نہیں ہو جاتی بلکہ آنحضرت ﷺ کی احادیث میں بھی بعض قرآنی پیشگوئیوں کی تشریح موجود ہے۔ہم نے ان میں سے محض چند پیشگوئیوں کو نمونی منتخب کیا ہے۔ایسی پیشگوئیاں جن کا تعلق سفر کے نئے ذرائع اور ان کے وسیع اثرات سے ہے اپنی عالمگیر اہمیت کے باعث اس باب کے آخر میں قدرے تفصیل سے بیان کی جائیں گی۔تاریخی ترتیب کو مدنظر رکھتے ہوئے ہم ایسی پیشگوئیوں سے آغاز کرتے ہیں جو آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں پوری ہو گئیں۔ان میں سے چند ایک کا تعلق آپ مہینے کی