الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 530
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 503 ان مفسرین کے نزدیک بائیل اور قرآن کریم میں بیان کردہ حالات کے مطابق یہ بھی کوئی معمولی معجزہ نہیں ہے حتی کہ فرعون کی لاش بچائے جانے کا وعدہ بھی اس کے لئے نعمت عظمی سے کم نہ تھا۔ان کی دلیل یہ ہے کہ فراعین مصر نہایت متکبر اور انا پرست حکمران تھے۔اس لئے فرعون کے محض جسم کو بچائے جانے کی یقین دہانی ہی آخری لمحات میں اس کیلئے کچھ نہ کچھ تسکین کا باعث بنی ہوگی۔تا ہم اللہ تعالی کا صرف یہی ملا نہیں تھا کہ فرعون کی انا کو تسکین پہنچے بلکہ اصل مقصد یہ تھا کہ آنے والی نسلوں کو ایسا عظیم الشان نشان دیا جائے جو کئی لحاظ سے اہمیت کا حامل ہو جس سے وہ عبرت حاصل کر سکیں۔اس بحث کا نتیجہ کچھ بھی کیوں نہ نکلے، خواہ یہ ثابت ہو جائے کہ یہ فرعون ڈوبنے سے مرا تھایا یہ کہ ڈوبتے ڈوبتے بچالیا گیا تھا، اس قرآنی بیان کے اعجاز میں کسی قسم کے شک و شبہ کی گنجائش باقی نہیں رہتی کہ فرعون کا جسم بلا شبہ محفوظ رہا اور آئندہ نسلوں پر یہ حقیقت بالکل اسی طرح منکشف ہوئی جس طرح قرآن کریم نے پیشگوئی فرمائی تھی۔ضمنا یا در ہے کہ وہ مفسرین جو یہ سمجھتے ہیں کہ جب فرعون کو سمندر سے نکالا گیا تو وہ مر چکا تھا ان کے نزدیک یہ رمسیس ثانی کا جانشین منفتاح (Memoptah) تھا نہ کہ خود میں۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک کی بجائے دو فراعین کا زمانہ پایا۔آپ کی پیدائش عمسیس ثانی کے دور میں ہوئی اور اسی کے محل میں اس کی ایک خدا ترس بیوی نے آپ کی پرورش کی جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اس کی سب سے چھوٹی بیوی تھی۔چونکہ اس کے ہاں کوئی اولاد نہ تھی لہذا اس کی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو متبنی بنانے کی خواہش نا قابل فہم نہیں ہے۔اگر اس نقطہ نظر کو تسلیم کر لیا جائے تو رعمسیس ثانی کی وفات کے بعد جب منفتاح تخت نشین ہو چکا تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام مدین سے اس وقت مصر واپس تشریف لائے ہوں گے۔یہ لوگ اپنی تائید میں بائیبل کا یہ حوالہ پیش کیا کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو مدین کی طرف اپنی جلاوطنی کے دوران اللہ تعالیٰ کی طرف سے خبر مل چکی تھی کہ وہ فرعون جس کے عہد میں آپ کے ہاتھوں ایک شخص مقتل ہوا تھا، مر چکا ہے۔دیکھنے میں تو یہ بات منطقی اور قابل قبول معلوم ہوتی ہے لیکن ایک بادشاہ کی وفات سے کوئی