الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 529 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 529

502 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم کی گنجائش ہی نہیں کہ ویلی آف کنگز (valley of kings) یعنی وادی شاہانِ مصر سے برآمد ہونے والی ایک تھی اسی فرعون کی ہے جس نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے ٹکر لی تھی۔لامحالہ اس سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ساری تاریخ عالم کے فیصلے کے خلاف صرف قرآن کریم کا یہ دعویٰ ہی درست ثابت ہوا ہے: فاليوم ننجيك ببدنك، یعنی آج کے دن ہم تجھے تیرے بدن کے ساتھ نجات بخشیں گے۔قرآن کریم کا یہ وہ فیصلہ ہے جس پر تاریخ عالم نے مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔فرعون سے اللہ تعالیٰ کے اس خطاب کے ایک معنی یہ ہو سکتے ہیں کہ اس کی زندگی بچانے کا وقت تو گزر چکا تھا لہذا اب صرف اس کا مردہ جسم ہے جسے بچایا جائے گا۔دوسرے ممکنہ معنی یہ ہیں کہ ایمان لانے کا وقت اب گزر چکا ہے لہذا اس کی روح کو نجات نہیں ملے گی۔البتہ جسمانی طور پر اسے بچا لیا جائے گا لیکن روحانی طور پر وہ ایک بے جان لاشہ کی مانند ہوگا۔ہمارے نزدیک قرآن کریم کی مراد مؤخر الذکر معنی سے ہے۔اپنے موقف کی مزید تائید کیلئے ہم قرآن کریم کے اس خاص اسلوب کا حوالہ دیتے ہیں جس میں یہ واقعہ بیان ہوا ہے۔یہ اسلوب خصوصی توجہ کا طالب ہے جس میں فرعون کے بدن کو بچانے پر زور دیا گیا ہے تنجيك ببدنك (ہم تجھے تیرے بدن کے ساتھ نجات دیں گے )۔ظاہر ہے کہ فرعون کو اس دنیا میں اپنی بقا کی فکر تھی نہ کہ اپنی لاش کے بچاؤ کی۔اگر اس کی روحانی اور جسمانی زندگی دونوں کا بچایا جانا مقصود نہ تھا تو پھر اس وعدہ کا مطلب کیا ہوا۔ظاہر ہے کہ فرعون محض اپنی مردہ لاش کے بچاؤ کے لیے التجا نہیں کر رہا تھا۔اگر فرعون کی دعا جزوی طور پر ہی قبول ہوئی تھی جیسا کہ قرآن کریم سے ظاہر ہے تو پھر جسمانی یا روحانی دونوں اعتبار سے اس کے مرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔یہ تو اس کی التجا کے کلیہ رد ہونے کے مترادف ہے۔اسرائیل کے خدا پر اس کے ایمان کا اقرار موت کے ڈر کی وجہ سے تھا۔لہذا اس کی یہ بے معنی دعا جائز طور پر رد کئے جانے کے لائق تھی۔اس سے وعدہ صرف اس کے جسم کو بچائے جانے کا تھا نہ کہ روح کو لیکن اکثر مسلمان مفسرین مصر ہیں کہ اس کی دعا گلی رد کی گئی اور اس کے جسم کے بچائے جانے کا وعدہ سمندر سے اس کی لاش نکال کر محفوظ کئے جانے متعلق ہے۔