الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 528 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 528

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 501 بھی نہ بچا۔چنانچہ قرآن کریم سے پہلے کسی انسانی تاریخ میں اس بات کا ذکر نہیں ملتا کہ فرعون کے جسم کو اس لئے بچایا گیا تا کہ وہ آئندہ نسلوں کیلئے باعث عبرت ہو۔نزول قرآن کے وقت فرامین مصر کے مقابر صحرا کی ریت کی تہوں میں مدفون تھے تو اس زمانہ کے لوگوں کومی بنانے کا علم نہیں تھا اور خصوصاً عرب تو اس سے بالکل ہی نابلد تھے۔کسی بھی مذہبی یا غیر مذہبی کتاب یا روایت میں فرعون کی جسمانی نجات کا اشارہ تک نہیں ملتا۔کجا یہ ذکر کہ اس کا جسم بعد میں بھی محفوظ رہا۔قرآن کریم کا یہ بیان اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ یہ نہ صرف بعض گزشتہ واقعات کا انکشاف کرتا ہے جو اس وقت تک دنیا کو معلوم نہ تھے بلکہ وہ یہ پیشگوئی بھی کرتا ہے کہ مستقبل بھی ان بیانات کی تصدیق کرے گا۔اس وقت اس بات کا تصور بھی محال تھا کہ بائیل کے بیان کردہ حالات کی رو سے غرق ہونے کے بعد فرعون کا جسم بچا لیا گیا ہو۔لیکن بفرض محال اگر اسے بچا بھی لیا جاتا تو بھی ممی کا ذکر بجائے خود ایک عجوبہ سے کم نہ ہوتا۔بایں ہمہ قرآن کریم بعینہ یہی دعویٰ کرتا ہے۔نزول قرآن کے زمانہ میں کوئی آدمی ایسا بیان دینے کے بارہ میں تو سوچ بھی نہیں سکتا تھا جو اس وقت کے موجود تاریخی شواہد کے اتنا برعکس ہوتا۔اس وقت ان لوگوں کا یہی خیال تھا کہ فرعون کو سمندر نے ہمیشہ کیلئے نگل لیا تھا حتی کہ ان مقابر میں چوری کی نیت سے داخل ہونے والوں کے ذہن میں یہ شائبہ تک نہ تھا کہ ویلی آف کنگز (valley of kings) یعنی ”بادشاہوں کی وادی میں فرامین مدفون ہیں۔اگر قرآن کریم رسول کریم ﷺ کی اختراع ہوتا تو انہیں اس قسم کا عجیب بیان دینے کی ضرورت ہی کیا تھی۔اول تو یہ کہ ایسا بیان تو ویسے بھی ایک بالکل بے سود بات تھی بلکہ اس سے تو بجائے فائدہ کے نقصان کا احتمال تھا۔کیونکہ اگر کوئی اسے چیلنج کر دیتا تو رسول کریم ﷺ کے پاس اس موقف کے دفاع میں ان دنوں کوئی شہادت موجود نہ ہوتی۔اس کا تو صرف ایک ہی نتیجہ نکل سکتا تھا یعنی یہ کہ قرآن کریم کی صداقت مشتبہ ہو جاتی۔نزول قرآن سے کئی صدیاں بعد زمین نے اپنے بھید کھولنا شروع کئے اور اب تک حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عہد سے منسوب تمام فراعین کی حنوط شدہ لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔یہ امر ہنوز حل طلب ہے کہ یہ فرعون رمسیس ثانی ہی تھا یا کوئی اور؟ لیکن اس امر میں تو شک وشبہ