الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 526
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 499 تاریخ کے تمام اہم مدارج کا احاطہ کرتا ہے جو ساڑھے چار ارب سال پر ممند ہیں اور جو بالآخر تخلیق انسانی پر منتج ہوئے۔اس مرحلہ کے بعد سے قرآن کریم انسانی تاریخ کو معاشرہ، مذہب اور تمدن کے ارتقا کے حوالہ سے بیان کرتا ہے اور اس امکان کا ذکر بھی کرتا ہے جب بالآخر نسل انسانی معدوم ہو جائے گی اور اس کی جگہ ایک بہتر اور زیادہ ترقی یافتہ نوع حیات وجود میں آجائے گی۔یہ خلاصہ جو ہم نے بیان کیا ہے اس کی تفصیلی بحث اس کتاب کے متعلقہ ابواب میں پیش کی جا چکی ہے جس میں یہ ثابت کیا گیا ہے کہ آسمانی وحی کس طرح عالم غیب کے کسی حصہ کو عالم شہود میں منتقل کرتی ہے۔اس باب میں ہم یہ ثابت کریں گے کہ قرآن کریم کس تفصیل سے ان تاریخی واقعات کا ذکر کرتا ہے جو ماضی کے دھندلکوں میں گم ہو چکے ہیں۔نیز مستقبل میں رونما ہونے والے بہت سے ایسے واقعات کا انکشاف بھی کرتا ہے جو نزول قرآن کے وقت کسی کے تصور میں بھی نہیں آسکتے تھے۔خصوصاً یہ کہ قرآن کریم کس طرح معین طور پر آئندہ ہونے والی ان سائنسی ترقیات کی پیشگوئی کرتا ہے جن کے نتیجہ میں انسان کا طرز حیات یکسر تبدیل ہو جانا مقدر تھا۔اب ہم یہاں ایک عظیم تاریخی واقعہ کا ذکر کرتے ہیں جو یہود و نصاری اور مسلمانوں کے لئے یکساں مذہبی اہمیت کا حامل ہے۔اس کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مصر سے خروج اور ان کا تعاقب کرنے والے فرعون اور اس کے لاؤ لشکر کے انجام سے ہے جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور آپ کی قوم دریائے نیل کے پر خطر ڈیلٹا سے بخیر و عافیت گزر گئی۔اسی طرح یہود و نصاریٰ کی تاریخ سے تعلق رکھنے والے اور متعدد واقعات بھی ہیں جن کا ذکر عہد نامہ قدیم عہد نامہ جدید اور قرآن کریم میں ملتا ہے لیکن ہم نے اس مقصد کیلئے خروج کے واقعہ کا انتخاب اس لئے کیا ہے کہ یہ واقعہ قرآن کریم کے کلام الہی ہونے کا بین ثبوت ہے۔بائیبل کا بیان اگر چہ ہمعصر تاریخ کو محفوظ تو کرتا ہے لیکن قرآن کریم کے مقابلہ میں بالکل سرسری اور سطحی ہے۔حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ایک ماننے والے نے جو کچھ دیکھا اور محفوظ کیا وہ بس اتنا ہے کہ فرعون اور اس کا لشکر پہاڑوں جیسی دو بلند لہروں میں غرق ہو گیا۔غرق ہونے سے پہلے فرعون پر کیا گزری؟ ڈوبتے وقت اس کے اور خدا تعالیٰ کے درمیان کیا مکالمہ ہوا ؟ آیا اس نے ڈوبتے وقت خدا تعالیٰ سے کوئی دعا مانگی۔اگر مانگی تو کیا ؟ یہ وہ تمام باتیں ہیں جو ساحل پر کھڑے