الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 525 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 525

498 عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم دنوں میں جو ہر تقریباً ایک جیسے ہی رہتے ہیں جبکہ انسان کا معاملہ مختلف ہے۔انسان کی نفسیاتی پیچیدگیاں، اس کے مزاج اور رویوں میں مختلف تبدیلیاں، اس کی سوچ اور اخلاقیات کے بدلتے ہوئے معیار اور دل و دماغ کی مختلف صلاحیتیں اور استعدادیں نیز اس کے کردار کی گہرائی یا اتھلا پن اور ایسے ہی دیگر کئی ان گنت تغیرات ہیں جو ہمیں جو ہڑوں میں دکھائی نہیں دیتے حتی کہ انسان کی باطنی تبدیلیاں بھی اکثر و بیشتر اس کی اپنی سمجھ سے بالا ہوتی ہیں۔تاہم معدودے چند انسان ہی منکسر المزاج ہوا کرتے ہیں۔بہت کم لوگ ہیں جو اس بات کا احساس رکھتے ہیں کہ صداقت کا اصل منبع اور مطلق علم کا سر چشمہ خالق حقیقی کی ذات ہی ہو سکتی ہے۔وہی ہے جو اپنی مخلوق کے ہر پہلو سے باخبر ہے۔وہی بصیر ہے ، وہی علیم ہے ، وہی عظیم ہے اور وہی بزرگ و برتر ہستی ہے۔کسی چیز کی تخلیق کیلئے اس کے بارہ میں علم ایک لازمی شرط ہے خواہ یہ علم الہی ہو یا انسانی۔کیونکہ گہرے علم کے بغیر کوئی تخلیقی مقصد حاصل نہیں ہو سکتا۔لہذا تخلیق کی باریکیوں اور پیچیدگیوں کا علم خالق سے بڑھ کر کسی اور کو ہو ہی نہیں سکتا۔یہی وجہ ہے کہ مطلق علم اللہ تعالیٰ سے ہی خاص ہے یعنی جامع اور کامل علم۔لہذا یہ اصطلاح بلا شرکت غیرے اللہ تعالیٰ کیلئے ہی استعمال ہوتی ہے۔اگر یہ وہی علیم و خبیر اور حاضر ناظر خدا ہے جس نے قرآن کریم کو نازل فرمایا تو لازم ہے کہ بلا استثناء ماضی، حال یا مستقبل سے تعلق رکھنے والی تمام قرآنی آیات کی تصدیق نئے منکشف ہونے والے مصدقہ حقائق سے بھی ہو۔چنانچہ آئندہ صفحات میں یہی موضوع زیر بحث آئے گا۔انشاء اللہ ہم نا قابل تردید اور غیر متنازع حقائق کی مدد سے اپنے موقف کو ثابت کرنے کی کوشش کریں گے۔قبل ازیں ہم تخلیق کائنات سے متعلق بعض قدیم ترین واقعات پر روشنی ڈالنے والی آیات قرآنی کا قدرے تفصیل سے ذکر کر چکے ہیں۔یہ عمل اس وقت شروع ہوا جب وقت کا آغاز ہوا اور جب کا ئنات ایک بلیک ہول سے دھماکہ کے ساتھ باہر نکل کر اچانک معرض وجود میں آئی۔قرآن کریم کے مطابق یہ کائنات صرف قادر مطلق خالق کے حکم ہی سے یوں اچانک پھٹ کر منتشر ہونا شروع ہوئی اور سمٹ کر انجام کا ایک اور بلیک ہول میں دوبارہ غائب ہو جائے گی۔جہاں تک حیات کے آغاز کا تعلق ہے اس کے متعلق بھی قرآن کریم نے جو انکشافات فرمائے ہیں وہ بھی حیران کن حد تک جامع اور معین ہیں۔قرآن کریم نامیاتی اور حیاتیاتی ارتقا کی