الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 524 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 524

عالم غیب کا انکشاف اور قرآن کریم تاریخی پس منظر انسانی علم سے ماوریٰ چاروں طرف لا محدود اسرار غیب پھیلے ہوئے ہیں۔ماضی، حال یا مستقبل کے متعلق انسانی علم کی مثال روشنی کے اس چھوٹے سے نقطہ جیسی ہے جس کی حیثیت جگنو کی ٹمٹماتی ہوئی اس دم سے زیادہ نہیں جو تاریکی کے اتھاہ سمندر میں گم ہو۔یوں لگتا ہے کہ اگر چہ انسانی طبیعیات اور اعلیٰ ریاضیات کی وجہ سے بظاہر کائنات کے کناروں تک پھیل چکا ہے لیکن واقعاتی شہادت اسے کائنات کے کناروں سے اب جا کر ملنا شروع ہوئی ہے اور وہ بھی ان اشاروں کے طفیل جو اٹھارہ سے ہیں ارب سال کے بعد ہم تک پہنچ پائے ہیں۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ وہاں ان اشاروں یا سگنلز کی اتنا عرصہ قبل روانگی کے بعد سے اب تک کیا ہو چکا ہے یا کیا ہورہا۔ہے تو اس کے متعلق کچھ کہنا مکن نہیں۔زیادہ سے زیادہ اسے قیاس آرائی ہی کہا جا سکتا ہے۔ماضی اور مستقبل کو تو چھوڑیں ، حال سے متعلق علم بھی زیادہ تر انسانی دسترس سے باہر دکھائی دیتا ہے۔کیا انسان اپنے گھر، گلی، قصبہ اور ملک سے باہر وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے واقعہ باخبر ہے؟ جملہ ذرائع ابلاغ مل کر بھی اسے دنیا میں رونما ہونے والے واقعات کے اربویں حصہ سے بھی آگاہ نہیں کر سکتے۔لیکن بات یہیں ختم نہیں ہو جاتی۔انسان اپنے دوستوں اور قریبی رشتہ داروں کے متعلق کچھ نہ جانتے ہوئے بھی یہ سمجھتا ہے کہ وہ سب کچھ جانتا ہے۔انسانی چہرہ کو پڑھ کر اس کے اندرونی خیالات کو معلوم کرنا بعض اوقات کیچڑ سے بھرے ہوئے کسی جوہر کی سطح کے نیچے دیکھ لینے کی کوشش سے بھی زیادہ مشکل ہے۔انسان دونوں صورتوں میں محض سطح پر منعکس خاکوں کو دیکھتا ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ جو ہر بذات خود کچھ نہیں کر سکتے۔نہ وہ تصنع سے کام لے سکتے ہیں اور نہ ہی وہ اپنی مرضی سے غیر حقیقی تاثرات پیدا کر سکتے ہیں۔موسم اور سال کے مخصوص 497