الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 519 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 519

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 493 نیچری اس حقیقت کو تبدیل نہیں کر سکتا اور نہ ہی خدا تعالیٰ کا مقام اپنی مرضی سے کسی بے شعور خالق کو دے سکتا ہے۔مایوسی کی حالت میں کی جانے والی کوشش میں وہ انتخاب طبعی کے عمل کو خالق کا اضافی مرتبہ بھی سونپ دینا چاہتے ہیں۔اس طرح وہ اس بات کو ترجیح دیتے ہیں کہ فہم و فراست سے عاری اور بے شعور قانون کو انتخاب اور تخلیق کرنے والی قوت تسلیم کر لیں جو کسی بھی حیثیت میں اپنی مرضی کی مالک نہیں ہے۔بلکہ ترجیحا وہ تو یہ بھی تسلیم کرنے کو تیار ہیں کہ انہیں 'صفر نے پیدا کر دیا۔بالفاظ دیگر ہم یہ کہنے میں بھی حق بجانب ہوں گے کہ جیسا باپ ویسا بیٹا۔اس طرح ان کے پاس ایک بے شعور ، جسم سے عاری، بہرہ، گونگا اور اندھا قانون باقی بچتا ہے جس کے بارہ میں ان کا اعتقاد ہے کہ وہی ان کا خالق ہے۔ضمناً اس پر تو یہی محاورہ صادق آتا ہے کہ جیسی روح ویسے فرشتے۔وہ اس پر بیشک جتنا چاہیں فخر کریں لیکن ہم معذرت کے ساتھ اس سے پورا پورا اختلاف رکھتے ہیں۔ہم تو خود کو ایک ایسے خالق کی تخلیق قرار دینے کو ترجیح دیں گے جو ایک عظیم الشان ذہن کا مالک ہے اور اس بات پر قادر ہے کہ جس چیز کا ارادہ کرے اسے پورا کر لے۔ہمیں ایسے خالق پر ایمان لائے بغیر چارہ نہیں۔ورنہ ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ہم خود عقل اور جذبات سے عاری ہیں جو بظاہر ہم میں موجود ہیں۔اگر خدا کا انکار کرنے والوں کے پاس انتخاب کا کوئی اختیار ہے تو یہ اختیار نہیں یہاں استعمال کرنا چاہئے کہ وہ اپنے لئے متذکرہ بالا دو قسم کے خالقوں میں سے کون سے خالق کو انتخاب کرنا پسند کریں گے۔ہم یہ فیصلہ ان پر چھوڑتے ہیں۔حوالہ جات 1۔DAWKINS, R۔(1986) The Blind Watchmaker۔Penguin Books Ltd, England۔2۔DAWKINS, R۔(1986) The Blind Watchmaker۔Penguin Books Ltd, England, p۔xiii 3۔DAWKINS, R۔(1986) The Blind Watchmaker۔Penguin Books Ltd, England, p۔24 4۔DAWKINS, R۔(1986) The Blind Watchmaker۔Penguin Books Lid, England, p۔25 5۔DAWKINS, R۔(1986) The Blind Watchmaker۔Penguin Books Ltd, England,