الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 512
486 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق مقصد دیکھ سکتے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتا۔ہم چشم تصور سے ایسے ٹیلوں کا رفتہ رفتہ ایک انتہائی لمبے زمانہ میں سمندر کے بیچوں بیچ معرض وجود میں آنا مشاہدہ کر سکتے ہیں۔آس پاس خشکی پر بسنے والے لوگوں کو ان کی موجودگی کا احساس اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک کہ وہ سطح سمندر سے اوپر نہ ابھر آئیں۔جب ایک خاص مقصد کیلئے ان کا استعمال شروع ہوتا ہے تب کہیں ان کی اہمیت ہم پر کھلتی ہے کہ وہ مختلف طریقوں سے کس طرح زندگی کے قیام میں مدد دیتے ہیں۔یہ اس بے مقصد تدریجی تخلیق کی ایک مثال ہے جس میں بظاہر پہلے سے موجود کوئی مقصد نظر نہیں آتا۔عین ممکن ہے کہ اس تخلیق کے پیچھے یہ مقصد کار فرمانہ ہو۔تاہم اس کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔قوانین قدرت ذہن کے بغیر آزادانہ طور پر خود بخود کام کرتے ہیں۔یہی قوانین ہر موجودہ چیز میں جاری وساری ہیں اور اسے کنٹرول کرتے ہیں۔ان آفاقی قوانین سے جاندار بھی مستقی نہیں۔ان قوانین کو شعوری طور پر استعمال کرنے والے ذہن کی عدم موجودگی سے وہ فرضی لائن ختم ہو جاتی ہے جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ جاندار کو بے جان سے ممتاز کرتی ہے۔اگر جانداروں کا دماغ خود منصوبہ سازی نہیں کر سکتا اور اپنے جسم کی تشکیل پروگرام کے مطابق نہیں کر سکتا تو پھر تو جاندار اور بے جان سب اشیاء پر یکساں طور پر ایک ہی قسم کے قوانین قدرت کا اطلاق ہونا چاہئے۔اس صورت میں ماننا پڑے گا کہ ذہن سے عاری یہ قوانین ہی ہیں جن کی وجہ سے زندگی کے اجزائے ترکیبی رفتہ رفتہ جمع ہو کر کوئی شکل اختیار کر لیا کرتے ہیں۔اگر واقعی یہ قوانین زندگی کے اجزائے ترکیبی کو تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں تو یہ بات زیادہ قرین قیاس ہے کہ وہ اس تدریجی عمل کے ذریعہ رفتہ رفتہ ایک دن ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کو بھی تعمیر کر ڈالیں۔لیکن ماہرین حیاتیات خود اپنے اس نظریہ کی تردید بھی کر دیتے ہیں اور یہ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں کہ بغیر کسی منصوبہ کے رفتہ رفتہ جمع ہو جانے والے اتفاقی عوامل کے تحت ایمپائر سٹیٹ بلڈنگ کا وجود میں آنا ممکنات میں سے ہے خواہ یہ عوامل بظاہر کتنے ہی چھوٹے اور بے حقیقت کیوں نہ ہوں۔اس طرح یہ لوگ بے جان اشیاء اور جاندار مخلوق میں جاری و ساری قوانین قدرت کے درمیان ایک مصنوعی تفریق پیدا کر دیتے ہیں کہ دونوں صورتوں میں یعنی بے جان اور جاندار مخلوق میں اس قسم کا کوئی فرق موجود نہیں۔اس لئے اگر قوانین قدرت کو شعوری طور پر استعمال کرنے والا کوئی ذہن ہی