الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 506 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 506

480 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق ہوتا جو وہ اپنے کارکنوں کو pheromone کے ذریعہ دیتی ہے۔یہ اشارے کارکن مکھیوں کے کردار کو کنٹرول کرتے ہیں اور ان کی اجتماعی زندگی کے ضامن ہیں۔26 نکھ تو جنہیں کارکن مکھیاں خوراک مہیا کرتی ہیں مضبوط جسم کے مالک ہوتے ہیں۔ان کا صرف ایک ہی کام ہے کہ ملکہ سے ملاپ کریں تا کہ انڈے پیدا ہوں۔جس کے بعد ان کی موت واقع ہو جاتی ہے۔کالونی کی آبادی کا اکثر حصہ کارکن مکھیوں پر مشتمل ہوتا ہے جو زرگل اکٹھا کرتی ہیں اور شہد بناتی ہیں نیز وہ چھتے کے ارد گرد دفاعی حصار بنائے رکھتی ہیں۔ہمیشہ چوکس رہتی ہیں اور کالونی کی حفاظت کیلئے ہمہ وقت تیار رہتی ہیں۔ان کی ایک لمحہ کے نوٹس پر اڑنے کی صلاحیت کا دارو مداران کے جسمانی درجہ حرارت پر ہے جو 35 ڈگری سنٹی گریڈ رہنا چاہئے۔چھتا جو چاروں طرف سے گھرا ہوا ہوتا ہے اس میں تو درجہ حرارت کو قائم رکھنا کوئی مسئلہ نہیں ہے لیکن بیرونی طرف کھلی ہوا کے زیر اثر جب درجہ حرارت کم ہونے لگتا ہے تو اس کا حل وہ اپنے پروں کو وقتاً فوقتاً تیزی سے پھڑ پھڑا کر رگڑ سے توانائی پیدا کر کے نکالتی ہیں۔شہد کی مکھی اپنا چھتا کسی درخت کے کھو کھلے تنے یا تنگ غار میں بناتی ہے۔چونکہ اس کا ایک ہی دروازہ ہوتا ہے اس لئے اس کے اندر ہوا کی گردش نہ ہونے کی وجہ سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور ہوا میں موجود دوسری گیسوں کا تناسب از خود قائم نہیں رہ سکتا۔کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تناسب بڑھ جانے سے مکھیوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو جاتا ہے جس سے بچاؤ کیلئے کارکن مکھیاں چھوٹے چھوٹے گروہوں کی صورت میں دروازہ پر اس طرح بیٹھتی ہیں کہ ان کی دم باہر کی طرف ہوتی ہے۔اس پوزیشن میں وہ اپنے پروں کو تیزی سے پھڑ پھڑاتی ہیں جس کی وجہ سے تازہ ہوا اندر داخل ہو کر آلودہ ہوا کو باہر نکال دیتی ہے۔ایک گروپ کا یہ عمل 10 سیکنڈ تک جاری رہتا ہے۔اس کے بعد اگر مزید ضرورت ہو تو دوسرا گروپ اس کی جگہ سنبھال لیتا ہے۔اگر چھتے کا درجہ حرارت 35 ڈگری سنٹی گریڈ سے بڑھ جائے تو بھی وہ یہی عمل دہراتی ہیں یعنی درجہ حرارت کو مطلوبہ حد تک برقرار رکھنے کیلئے نہایت عمدگی سے اپنے پر پھڑ پھڑاتی ہیں نیز تمام کی تمام بیک وقت پروں کو پھڑ پھڑاتی ہیں اور