الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 25
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 25 میں شرکت کے مدعی ہیں۔الغرض نام نہاد کٹر علماء کی طرف سے ان لوگوں پر طرح طرح کا ظلم وستم روارکھا گیا۔خدائی کے دعوئی کا الزام لگا کر ان صوفیاء سے جو سلوک کیا گیا اس کی ایک موزوں مثال مشہور صوفی منصور الحلاج کے واقعہ میں ملتی ہے۔ان صوفیاء پر اس قسم کے الزام لگائے گئے کہ گویا وہ بذات خود خدائی کے دعویدار ہیں۔منصور الحلاج کو اس جرم میں سولی پر لٹکایا گیا کہ وہ وجد کی کیفیت میں انا الحق انا الحق' کا نعرہ بلند کرتے تھے۔کٹر ملاؤں نے اس سے یہ مراد لی کہ وہ خود خدائی کے دعویدار ہیں۔حالانکہ انہوں نے روحانی سرور کی کیفیت میں اپنی ذات کی مکمل نفی کا اعلان کیا تھا۔اس سے مراد صرف یہ تھی کہ وہ لاشی محض ہیں۔اور جو کچھ بھی ہے فقط خدا کی ذات ہے۔منصور الحلاج موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر سر بلند کئے بے خوف وخطر سولی پر چڑھ گئے۔اور سب وشتم کے اس طوفان میں انا الحق انا الحق' کے نعرے بلند کرتے ہوئے اپنے مولا کے حضور حاضر ہو گئے۔متوقع موت کا خوف ان کے عزم کو ذرہ بھر بھی متزلزل نہ کر سکا اور نہ ہی گالی گلوچ کا شور ان کے نعرہ کو دبا سکا۔خارجی کا ئنات ایک حقیقت ہے یا محض ایک تخیل ؟ اس نظریہ پر مبنی ایک نئے صوفی فرقہ نے جنم لیا۔در حقیقت یہ ایک صدیوں پرانا مسئلہ تھا جسے افلاطون اور ارسطو نے بھی حل کرنے کی کوشش کی تھی۔لیکن نہ اس وقت اس کا کوئی حل نکل سکا اور نہ ہی بعد کے صوفیاء کسی منطقی نتیجہ پر پہنچ سکے۔فلسفیوں میں اب بھی یہ بحث اسی شدت سے جاری ہے اور کوئی ہمعصر فلسفی اس سے ، صرف نظر نہیں کر سکتا۔بات دراصل یہ ہے کہ انسانی ذہن کی شمولیت کے بغیر زمان و مکان کا ادراک ممکن نہیں۔دیوانہ کو اپنا تخیل اتنا ہی معروضی اور حقیقی نظر آتا ہے جتنا کسی سائنس دان کو قوانین قدرت کا مشاہدہ۔ان زاویوں سے دیکھا جائے تو یہ مسائل لا منخل معلوم ہوتے ہیں۔مزید برآں خارجی کائنات کے متعلق ہر شخص کا تاثر دوسرے سے مختلف ہے۔تاہم ہمارے اردگرد موجود اشیاء اور ان کی خصوصیات کا ادراک بالعموم ایک سا ہوتا ہے۔مثال کے طور پر اکثر لوگ کسی عام شے مثلاً کرسی یا میز کی ماہیت کے بارہ میں تو اتفاق کریں گے لیکن اور بہت سی ایسی خصوصیات ہیں جن کے بارہ میں ضروری نہیں کہ وہ متفق ہوں۔مثلاً مختلف حسن بصارت رکھنے