الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 496 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 496

472 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق انہوں نے منتخب بھی خود نہ کیا ہو تو وہ مین ایک ہی جگہ پر آکر آپس میں کیسے مل سکتے ہیں جو انفرادی اور اجتماعی طور پر ان کیلئے مفید ہو؟ پروفیسر ڈاکٹر کو اس بات کی خوب تسلی کر لینی چاہئے اور خود اپنی عالمانہ تحریرات کی روشنی میں تخلیق کے بے مقصد نظریہ پر نئے سرے سے غور کرنا چاہیئے۔جانوروں اور پودوں کا ایک دوسرے کی مدد سے آگے بڑھتا ہوا ارتقا بھی کسی منصوبہ کے بغیر تخلیق کے نظریہ کی نفی کرتا ہے۔ہم اس کتاب میں پہلے بھی ایسی ہزاروں مثالوں میں سے چند ایک کا ذکر کر چکے ہیں۔یہاں پر ہم ڈارون کی اپنی بیان کردہ ایک ایسی ہی مثال کا ذکر کرتے ہیں۔ڈارون نے کئی قسم کی حیوانی اور نباتاتی زندگی کی بقائے باہمی کا ذکر کیا ہے جو ایک دوسرے کا ہاتھ بٹاتے ہوئے رتقا پذیر ہوئے ہیں۔ایک طرف سنڈیاں، کیڑے مکوڑے اور پرندے پودوں کے ارتقا کے عین مطابق ارتقا کا سفر طے کرتے ہیں تو دوسری طرف پھولوں اور پھلوں کی ساخت ٹھیک ان جانوروں کی ضروریات سے ہم آہنگ ہوتی ہے جو آزادانہ طور پر اپنی اپنی ارتقائی منازل طے کر رہے ہوتے ہیں۔اس ضمن میں ہم سینکڑوں ایسی مثالیں پیش کر سکتے ہیں جن کی موجودگی میں انتخاب طبعی کے قانون کے تحت پودوں اور جانوروں کے ایک دوسرے سے اس قسم کے باہمی تعاون کو اندھا اور بلا مقصد قرار دینا ناممکن ہے۔یہاں ہم انگر اسکم (Angracecum) کا ذکر کریں گے جو کہ مڈغاسکر میں پیدا ہونے والا پھول دار پودا ہے جس کے بارہ میں ماہرین حیاتیات کا کہنا ہے کہ یہ پھول برف کی طرح سفید ستارے کی شکل کا تھا جس کے نیچے سے ایک فٹ لمبی خمدار ٹیوب نکل کر بیضہ دانی تک پہنچتی تھی۔اس کا پیندا صرف آدھ انچ تک پھول کے رس سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔جب ڈارون سے اس پودے کی افزائش نسل کے بارہ میں دریافت کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ کوئی نہ کوئی پروانہ اس پودے کا ساتھی ضرور ہو گا جس کے منہ سے ایک فٹ لمبی ایسی سونڈ نما نلکی لگی ہوگی جو اس رستہ کے ساتھ ساتھ پھول کے رس تک پہنچ سکے۔چنانچہ بعد میں بعینہ یہی انکشاف ہوا۔اس بات کی اگر کسی کو داد دی جاسکتی ہے تو وہ ڈارون کی ذہانت ہے نہ کہ اس کا انتخاب طبعی کا اصول۔کیونکہ انتخاب طبعی کے اصول کے نتیجہ میں پودا اور پروانہ الگ الگ اتنی ہم آہنگی کے ساتھ ارتقا پذیر نہیں ہو سکتے تھے۔سوال یہ ہے کہ اپنے تولیدی نظام کے فعال ہوئے بغیر اس پھول کی بقا ممکن کیسے ہوئی۔