الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 495 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 495

الهام ، عقل ، علم اور سچائی وہ مزید لکھتے ہیں کہ: عجیب بات یہ ہے کہ جنوبی امریکہ کی الیکٹرک مچھلیوں نے بھی اسی طرح اتفاقاً ہو بہو 471 افریقہ کی مچھلیوں والا حل ڈھونڈ نکالا۔21 یہ انتہائی حیران کن بات ہے کہ ان مچھلیوں نے کس طرح اتفاقا ایک ہی جیسا طریق اختیار کر لیا۔مزید برآں انہوں نے ایسا طریق محض اتفاقاً کیسے اختیار کر لیا جو اتنا پیچیدہ اور مشکل ہے کہ اس پر عمل درآمد تو کجا وہ تو اس کے متعلق سوچنے کی اہل بھی نہیں۔اگر اس صورت حال کو تسلیم کر لیا جائے تو یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ دنیا بھر کے مختلف جانوروں کو بھی محض اتفاق سے تدریجا ارتقا کی نئی نئی صورتیں اندھے کے بغیر کی طرح ہاتھ لگتی رہی ہیں۔بالفاظ دیگر قطب جنوبی کے ریچھ نے اتفاقا یہ فیصلہ کر لیا کہ اس کا رنگ سفید ہو جبکہ کینیڈا میں تعلیمی ریچھ نے بھورا رنگ اختیار کر لیا اور دونوں نے یہ فیصلہ اپنی اپنی جگہ آزادانہ طور پر کیا۔دراصل اس کے پیچھے باقاعدہ ایک مقصد اور منصوبہ کار فرما ہے۔حقیقت یہ ہے کہ مچھلیاں یا کوئی اور جانور محض اتفاق کی بنیاد پر مسائل کا حل تلاش نہیں کیا کرتے۔اگر چہ پروفیسر ڈاکٹر نے خودہی ایک عظیم باشعور خالق کی موجودگی کے بارہ میں تمام اعداد وشمار مہیا کر دیئے ہیں لیکن وہ اپنی اس جانکاہ محنت کے تصحیح نتائج اخذ کرنے میں نا کام رہے ہیں۔اسی ناقص نظریہ کی وجہ سے وہ یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ: مچھلیاں پانی میں موجود برقی میدان کے جس طبعی قانون کو استعمال کرتی ہیں اس کو سمجھنا ہمارے لئے چمگادڑوں اور ڈالفن کے طریق کار کو سمجھنے کی نسبت بھی کہیں زیادہ مشکل ہے۔22 جس حیرت انگیز امر پر پروفیسر ڈاکنز اتنا زور دے رہے ہیں اس کے بارہ میں ہم پہلے ہی اس باب کے آغاز میں اپنی رائے کا اظہار کر چکے ہیں۔اس عبارت سے یہ ظاہر کرنا مقصود ہے کہ پروفیسر موصوف کا یہ نظریہ کہ زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے، بالکل غلط ہے۔ارتقا کے ان تمام مراحل کی کڑیاں جن کا انہوں نے ذکر کیا ہے ایک دوسرے سے بے تعلق ہونے کے باوجود آزادانہ طور پر سفر کرتے ہوئے بھی بالآخر ایک ہی مقام پر جاملتی ہیں۔ایک دوسرے سے بالکل مختلف سمتوں میں سفر کرنے کے باوجود اور سفر بھی ایسا کہ بظاہر کوئی منزل دکھائی نہ دے، آخر کس نے انجام کاران سب کو ایک ہی جگہ لا کھڑا کیا ؟ اگر مختلف لوگ مختلف سمتوں میں بلا مقصد سفر شروع کر دیں جنہیں