الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 489
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 467 تعیین کرنے میں مدد دیتی ہیں۔سمت کی تعیین کرنے والے اس حیرت انگیز نظام کے ذریعہ یہ مچھلی مختلف رکاوٹوں، شکاری اور شکار میں بآسانی تمیز کرسکتی ہے۔جب تک اس کا سامنا کسی چیز سے نہیں ہوتا اس کا وہ لیج معمول کی حالت میں رہتا ہے اور اس پر کوئی غیر ضروری بوجھ نہ پڑنے کی وجہ سے توانائی کا ضیاع بھی نہیں ہوتا۔لیکن جوں ہی اس کا سامنا کسی چیز سے ہوتا ہے تو اس کے وولٹ میٹر کو کسی نہ کسی طرح پیغام پہنچ جاتا ہے جو فوری طور پر دو لینج کو اس حد تک بڑھا دیتا ہے جو اتھلے پانیوں میں کسی انسان کو جان سے مار دینے یا گھوڑے کو بے ہوش کر دینے کیلئے کافی ہوتا ہے۔پروفیسر ڈاکٹر یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ انتخاب طبعی یا تدریجی ارتقا جس کے وہ بے حد دلدادہ ہیں اس قدر پیچیدہ اور مربوط نظام کا خالق نہیں ہو سکتا۔کیا انہیں یہ سوچنے کی بھی فرصت نہیں کہ آخر رفتہ رفتہ پیدا ہونے والی ان تبدیلیوں کا ماخذ کیا ہے؟ ایسی بار یک در بار یک تبدیلیاں ایک جسم کے اندر کیسے پیدا ہو سکتی ہیں جو نہ صرف اس جسم کیلئے غیر مانوس ہوں بلکہ ان تبدیلیوں کے قائم رہنے کے سامان ابھی وہاں موجود نہ ہوں۔الیکٹرک ایل (col) کے مطالعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک باشعور خالق لازماً موجود ہے جو اس بات کا کامل علم رکھتا ہے کہ بجلی کیسے پیدا ہوتی اور کام کرتی ہے۔سوال یہ ہے کہ وہ پہلی تبدیلی کب اور کیسے واقع ہوئی ہوگی جس سے برقی لہروں کی تخلیق کا تصور پیدا ہوا۔اور آخر کس طرح مچھلی کے عضلات ایک ایسی مخصوص ترتیب سے جڑے ہوئے ہیں کہ وہ اچانک تن کر کسی بہترین اور انتہائی حساس برقی آلے کی مانند بجلی پیدا کرنا شروع کر دیتے ہیں جو سرے پر مرکوز ہو کر انتہائی اونچی وولٹیج میں بدل جاتی ہے۔یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ مچھلی کے بجلی پیدا کرنے والے عضلات کا ہر عضلہ ایک مربوط نظام میں منسلک ہونے کی وجہ سے اونچی وولٹیج کے اس نقصان سے محفوظ رہتا ہے جو نقصان بصورت دیگر انہیں پہنچ سکتا تھا۔پروفیسر ڈاکنز کے مطابق: در مچھلی کے جسم کا بے لچک ہونا بہت ضروری ہے۔اگر اس مچھلی کا جسم عام مچھلیوں کی طرح لچکدار ہوتا تو نتیجیے پیدا ہونے والی لہروں کی غیر معمولی گڑ بڑ (distortions) سے مچھلی کا دماغ نمٹنے کا متحمل نہ ہوسکتا تھا۔“17