الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 23 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 23

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 23 فرق جو اسلامی تصوف کو اس سے ملتے جلتے دیگر مذاہب کے صوفیانہ مسالک سے ممتاز کرتا ہے وہ صوفیائے اسلام کا وحی کے جاری رہنے اور تعلق باللہ پر غیر متزلزل ایمان ہے۔درحقیقت تمام معروف صوفیاء کرام کا دعویٰ ہے کہ ان کا اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک مستقل تعلق قائم ہے۔چنانچہ ان کے بہت سے الہامات و کشوف مختلف مستند کتب میں درج ہیں۔البتہ صوفیاء کرام میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اسلام کے بنیادی اصولوں سے کلیڈ اپنا تعلق توڑ دیا۔ان کے نزدیک مذہب کا مقصد صرف اتنا ہے کہ انسان کی خدا کی طرف رہنمائی کرے۔اس لئے ان کے نزدیک وہ لوگ جو یہ مقصد حاصل کر چکے ہیں ان کیلئے رسمی عبادات بیکار محض ہیں۔انہوں نے کچھ ایسی دینی اور روحانی ریاضتیں متعارف کروائیں جن کے بارہ میں ان کا دعوی تھا کہ وہ خدا اور بندہ کے درمیان ایک قسم کا رابطہ قائم کرنے کیلئے کافی ہیں۔اس رابطہ کو بعض اوقات انسان کے فنا فی اللہ ہونے کے احساس کا نام دیا جاتا ہے۔تصوف کے اس مکتبہ فکر میں موسیقی اور نشہ کی لت نے جلد ہی راہ پالی اور ان لوگوں کو حقیقت سے دور سراب اور خود فریبی کی دنیا میں بھٹکنے کیلئے چھوڑ دیا۔تاہم تمام صوفیانہ تحریکات نے اپنے سفر کا آغاز بدعات سے نہیں کیا اگر چہ بالآخر وہ اپنے انحطاط کے دور میں اس راہ پر چل نکلیں۔دور ہوتے جا تصوف کے چار مستقل مشہور و معروف سلسلے ہیں جو مرور زمانہ کے ساتھ شریعت کی راہ سے تے چلے گئے۔لیکن جہاں تک ان کے بزرگ بانیوں کا تعلق ہے قرآن وسنت کے ساتھ ان کی وفاداری ہمیشہ مسلم اور شک وشبہ سے بالا رہی ہے۔یہ بڑے سلسلے چشتیہ، سہروردیہ، قادریہ اور نقشبندیہ ہیں جو آگے کئی ذیلی فرقوں میں تقسیم ہو چکے ہیں۔یہ سب کے سب حصول حق میں آسانی کیلئے زہد و ورع اور نفس کشی کی اہمیت پر زور دیتے ہیں۔آغاز میں صوفیاء کی یہ ریاضتیں روایتی اسلامی عبادات کا متبادل نہیں سمجھی جاتی تھیں بلکہ نوافل کے طور پر ادا کی جاتی تھیں۔رفتہ رفتہ خالق و مخلوق کے باہمی تعلق کا صوفیانہ تصور ایسے فلسفیوں سے متاثر ہونے لگا جن کا اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔مثال کے طور پر بعض صوفی سلسلوں میں کلاسیکی یونانی فلسفہ کے اثرات صاف طور پر دکھائی دیتے ہیں۔بعض صوفی فرقوں نے وحدت الوجود کا یونانی نظریہ ایک ترمیم شدہ صورت میں اختیار کر لیا اگر چہ بعض نے اس کی شدید مخالفت بھی کی۔وحدت الوجود کے مخالفین اس بات پر زور