الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 22
22 اسلامی مکاتب فکر نقطہ نظر پیش کرتے ہیں اور دوسری طرف گزشتہ دانشوروں کا کوئی حوالہ مل جائے جو ان کے مفید مطلب ہو تو وہ اسے بھی اپنے موقف کی تائید میں پیش کرنے سے نہیں جھجکتے تصوف ترکی، ایران اور دریائے آمو سے مشرق کے علاقہ میں، جو تاریخی طور صوفی ازم پر اور اورانبیر کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، خاصا مقبول تھا۔سابقہ ماوراء سوویت یونین میں رہنے والے بہت سے مسلمان باشندے تصوف کے بہت دلدادہ تھے۔تصوف نے پہلے روس کے زاروں اور پھر اشتراکیت کے دور میں ان علاقوں میں اسلام کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔تصوف جس بات پر شدت سے زور دیتا ہے وہ یہ ہے کہ مذہب کی ظاہری یا صوری ہیئت کے پس پردہ ایک مصنوعی حقیقت بھی ہوا کرتی ہے جو الہام اور اس کی روح سے عبارت ہے۔صوفیاء کے نزدیک اس روح کو ظاہر پر ہر صورت میں فوقیت حاصل ہونی چاہئے۔اس روح سے مراد صوفیاء کی آخری منزل ہے جس تک پہنچنے کیلئے تمام مذاہب کوشاں ہیں۔یہ آخری منزل عشق الہی اور تعلق باللہ کی ہے۔اس لئے ان کے نزدیک مذہب کی ظاہری شکل وصورت پر کار بند رہتے ہوئے یا اس کے بغیر اگر انسان کسی نہ کسی طرح اس منزل تک پہنچنے میں کامیاب ہو جائے تو مقصد حاصل ہو جاتا ہے اور یہی اس کا منتہی اور مقصود ہے۔تاہم سب صوفیاء نے ظاہر کو کلیڈ ترک نہیں کیا بلکہ وہ اپنی صوابدید کے مطابق شریعت کے تحت زندگیاں بسر کرتے چلے گئے۔لیکن وہ اپنی تمام تر کوششیں ظاہری عبادات میں صرف کرنے کی بجائے شب و روز اللہ تعالیٰ کی بعض خاص صفات کے ورد میں مشغول رہتے تا کہ ان کی تمام تر توجہ ذکر الہی پر مرکوز رہے۔کبھی کبھی تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے یہ ریاضتیں آہستہ آہستہ یوگا کی ان کسرتوں کی ہم شکل ہو گئی ہوں جن کا ذکر ہندومت کے باب میں کیا گیا ہے۔بعض اوقات صوفیاء کرام نے ذکر کے نئے سے نئے طریقے اور انداز ایجاد کر لئے جو ہوتے ہوتے آنحضرت ﷺ کی سنت سے بہت دور چلے گئے۔تاہم ان صوفی فرقوں کے پیرو کار قرآنی تعلیمات سے بھی شدت کے ساتھ وابستہ رہے۔اس طرح مسلم دنیا کے مختلف ممالک میں مختلف اوقات میں تصوف کے نئے مکاتب جنم لیتے رہے۔اس بحث سے مراد یہ نہیں ہے کہ تصوف کے ارتقا اور تاریخ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے یا مختلف صوفی فرقوں کے ان باہمی اختلافات پر بحث کی جائے جو بعد میں پیدا ہوئے۔لیکن ایک