الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 481
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 459 کی موت واقع ہونے تک پورا کمرہ ٹوٹے ہوئے کمپیوٹرز کا کباڑ خانہ بن جاتا مگر فیکسپٹر کی کسی عبارت کا نام ونشان بیچارے بندر کی لاش پر بھی نہ مل سکتا۔لیکن اتنا وقت بھی ڈارون کے معیاری وقت سے بہت کم ہے۔سوال یہ ہے کہ کیا انسان سے 50 سے 80 لاکھ سال قبل بندر موجود نہ تھے اور ان میں ارتقا نہیں ہو رہا تھا؟ کیا اس عرصہ میں رفتہ رفتہ ارتقا کے نتیجہ میں ان میں کسی شیکسپئر کے پیدا ہو جانے کا امکان نہ تھا؟ آخر ان کے اور انسان کے دماغ میں فرق تو صرف ایک جست کا ہی ہے نا۔اگر چہ یہ جست بہت لمبی ہے۔ہم ایک بار پھر ہیموگلوبن کے مضمون کی طرف لوٹتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے سوا کسی اور ہستی کو خدا قرار دینا ممکن ہوتا تو پھر اس کی صحیح حقدار ہیمو گلو بن ٹھہرتی ہے نہ کہ انتخاب طبعی کا اندھا، گونگا اور بہرہ قانون۔چاہئے تو یہ تھا کہ آغاز حیات سے انسانی جسم کی تخلیق تک (جس کا پروفیسر ڈاکنز کے نزد یک اتفاقاً پیدا ہو جانا کہیں زیادہ ناممکن ہے) جو کچھ وقوع پذیر ہوا ہے اس کا سہرا ڈارون کے اصول کی بجائے ہیموگلوبن کے سر ہوتا۔معلوم ہوتا ہے پروفیسر موصوف نے اپنے خدا کو شناخت تو کر لیا لیکن پھر بھی اس کے انکار پر مصر ہیں۔اس صورت میں انہیں لازما تسلیم کرنا پڑے گا کہ ہیموگلوبین