الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 475 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 475

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 453 تسلیم کرلیں گے؟ اس حقیقت کے باوجود کہ ان کا ادنیٰ درجے کا کمپیوٹر چمگادڑ کے سمعی نظام سے کہیں کم پیچیدہ ہے وہ یقینا یہ تسلیم نہیں کریں گے کہ یہ کمپیوٹر خود بخود بن گیا۔اگر وہ اس بات کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں کہ کوئی کمپیوٹر کسی قابل ڈیزائنر کی مدد کے بغیر خود بخود بن سکتا ہے تو انہیں نہایت ایمانداری سے خالق کا ئنات کے وجود سے انکار کی وجوہات کا جائزہ لینا ہوگا۔اس کی واحد دلیل یہی ہے کہ کمپیوٹر کا پیچیدہ اور مربوط نظام از خود وجود میں نہیں آسکتا۔لیکن جب وہ حیات کی تشکیل کا مطالعہ کرتے ہیں تو ان کا انداز یوں یکسر بدل جاتا ہے جیسے ان کی قلب ماہیت ہوگئی ہو۔بحیثیت ماہر حیاتیات انہیں اس چیز کا پتہ ہونا چاہئے کہ زندگی کمپیوٹر سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔کھرب ہا کھرب گنا زیادہ پیچیدہ کہنا بھی شاید مبالغہ نہ ہو۔اگر کمپیوٹر کو واہمہ قرار نہیں دیا جاسکتا تو اتنے بڑے نظامِ حیات کو کس طرح واہمہ قرار دیا جاسکتا ہے جو کمپیوٹر کے مقابلہ میں بدرجہا پیچیدہ ہے۔پروفیسر ڈاکٹر کو ایک لمحہ کیلئے بھی یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اگر ان کا نظریہ درست ہے تو پھر تو خود ان کا اپنا دماغ بھی اپنی تمام تر پیچیدگیوں کے باوجود محض ایک واہمہ قرار پائے گا۔ہم ان کے بارہ میں کسی قسم کے سخت الفاظ استعمال نہیں کرنا چاہتے۔لہذا ہم یہ فیصلہ انہیں پر چھوڑتے ہیں کہ وہ دو باتوں میں سے کس کا انتخاب کریں گے۔کیا وہ یہ چاہیں گے کہ ان کا دماغ سمجھ بوجھ سے عاری بے ترتیب اعصابی خلیات کے ڈھیر کی صورت میں موجود محض ایک واہمہ قرار دیا جائے یا وہ اپنے نظریات کو محض وہم سمجھ کر رد کرنا پسند کریں گے۔باوجود خواہش کے ہماری نظر میں کوئی تیسرا راستہ موجود نہیں ہے۔اگر انسانی دماغ محض ایک واہمہ ہے تو پھر تو اس میں جنم لینے والے خیالات کئی گنا زیادہ وہم کا شکار ہوں گے۔بالکل ایسے ہی جیسے ایک پاگل کے پراگندہ خواب مزید پرا گندگی کو جنم دیتے ہیں یا او بام در اوہام کا سلسلہ چلتا چلا جاتا ہے۔ہم ایسے صاحب علم اور اعلیٰ درجے کے فہم و فراست والے شخص کے دماغ کو محض واہمہ قرار دینا ہر گز پسند نہیں کرتے۔اس جگہ پروفیسر ڈاکنز لفظوں کا جال بننے لگتے ہیں۔وہ بڑی ہی سادگی سے یہ نظریہ پیش کرتے ہیں که زندگی پیچیدہ ہے ہی نہیں اور اسے پیچیدہ سمجھنا محض ایک واہمہ ہے۔لہذا جب یہ پیچیدہ ہی نہیں تو خود بخود جنم لے سکتی ہے۔زندگی کی پیچیدگی کو واہمہ قرار دینا اور کمپیوٹر کے نظام کو پیچیدگی سے تعبیر کرنا گویا عقل کو الٹا لٹکا دینے کے مترادف ہے۔پروفیسر ڈاکٹرز کی اس قلابازی کے مقابلہ میں تو دن کو