الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 474 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 474

452 وقت کا اندھا ، بھرہ اور گونگا خالق اس طرح پروفیسر ڈاکٹر صدائے بازگشت اور پرواز کے معاملہ میں چمگادڑ کی صوت وصدا کی حیرت انگیز صلاحیتوں کا ذکر کرتے ہوئے بالآخر اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں: ہم ان امور کو صرف اور صرف مخصوص آلات اور ریاضی کے کلیوں کی مدد سے ہی کسی حد تک سمجھ سکتے ہیں۔لیکن یہ یقین نہیں آتا کہ ایک چھوٹا سا جانور کس طرح یہ سب جمع تقسیم اپنے 666 دماغ میں ہی کر لیتا ہے۔اس سے ملتی جلتی لیکن پیچیدگی میں بہت کمتر مشینوں کا ذکر کرتے ہوئے وہ لکھتے ہیں: یقیناً ایک ماہر اور باشعور دماغ نے ہی اس قسم کی مشین کے تمام تاروں کا تانا بانا جوڑا ہوگا (یا کم از کم ان کا نقشہ تیار کیا ہوگا ) اگر چہ اس کی لمحہ بہ لحہ کارکردگی کے پیچھے کوئی باشعور ذہن کارفرما نہیں ہوتا۔7 ٹیکنالوجی کے میدان میں ہمارا تجربہ ہمیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ ہم ان مشینوں کے پس پرده خاص ارادہ اور منصوبہ کے تحت کام کرنے والے ڈیزائنر کے ذہن کی حقیقت کو تسلیم کریں۔8 یہاں پروفیسر صاحب جو نتیجہ اخذ کرتے ہیں وہ نہایت بے معنی اور لغو ہے کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ دراصل شعور سے عاری انتخاب طبعی ہی وہ ڈیزائنر ہے جسے اندھے گھڑی ساز کا نام دیا جاسکتا ہے۔چمگادڑ کے اس عجیب و غریب سمعی نظام کی تخلیق میں ڈارون کے اندھے اور سوجھ بوجھ سے عاری قانون سے عمل کو وہ یکسر رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ایسے پیچیدہ نظام والے عضو کی خود بخود تخلیق کیسے ممکن ہے؟“ اس کا جوب دیتے ہوئے وہ لکھتے ہیں کہ: وو یہ سوال بحث کی غرض سے نہیں اٹھایا گیا بلکہ بے یقینی کا اظہار ہے۔966 اگر پروفیسر ڈاکٹز کو کہا جائے کہ ان کے زیر استعمال 64 کلو بائٹ کا کمپیوٹر کسی باشعور دماغ کی تخلیق نہیں ہے اور نہ ہی اس کی ساخت کا کسی ڈیزائن سے تعلق ہے تو کیا وہ اس بات کو