الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 462
442 عضویاتی نظام اور ارتقا۔2 Choroid یہ درمیانی تہ نازک بافتوں اور خون کی نالیوں پر مشتمل ہوتی ہے۔یہ آنکھ کو pupil یعنی پتیلی کے علاوہ جو کارنیا کے عین عقب میں ایک چھوٹا سا سوراخ ہے ہر طرف سے گھیرے ہوئے ہے۔پتیلی کے گرد آئرس (Iris) نامی یہ تہ رنگدار ہوتی ہے اور اسی کی وجہ سے آنکھیں مختلف رنگوں مثلاً بھورا، نیلا، سبز، سرخی مائل یا ان کا مجموعہ دکھائی دیتی ہیں۔تتلی کے ذریعہ آنکھ میں داخل ہونے والی روشنی کی مقدار کو کنٹرول کیا جاتا ہے جو Choroid میں موجود ایک عدسہ میں سے گزرتی ہے۔یہ عدسہ پلکوں (ciliary) کے عضلات کے کورائڈ (Choroid) کے ساتھ منسلک ہوتا ہے۔ان عضلات کے ذریعہ دور یا نزدیک کی اشیاء کو فوکس کرنا آنکھوں کیلئے آسان ہو جاتا ہے۔aqueous humor ایک پانی نما سیال ہے جو کار نیا اور عدسہ کے درمیان بھرا رہتا ہے اور اسی کے دباؤ سے کارنیا ذرا سا باہر کی طرف نکلا ہوا ہوتا ہے۔عدسہ کے پیچھے کا تمام تر حصہ ایک نسبتاً موٹے اور شفاف مادہ سے بھرا ہوتا ہے جسے vitreous humor کہتے ہیں جس کی وجہ سے آنکھ ٹھوس اور کروی شکل اختیار کئے رکھتی ہے۔؟ 3 ریٹینا (retina) یہ وہ حساس اور اندرونی ترین پردہ ہے جس کی موٹائی ایک ملی میٹر بھی کم ہے۔یہ پردہ بجائے خود خلیات کی دس مختلف تہوں پر مشتمل ہے جنہیں ریسیپٹر (receptor) گیز گلیا (ganglia) اور عصبی ریشے کہا جاتا ہے۔6 5 ریسیپر جنہیں فوٹوریسیپٹر کہنا زیادہ مناسب ہوگا، دو طرح کے ہوتے ہیں۔کونز (cones) اور راڈز (rods) ان میں راڈ سیل (rod cells) جو سفید اور سیاہ رنگ میں تمیز کر سکتے ہیں کی تعداد تقریباً ایک کروڑ تھیں لاکھ ہے اور کونز سیلز (cones cells) جو انسانی آنکھ میں رنگوں کی تمیز کرتے ہیں کی تعداد صرف ستر لاکھ ہے۔7 کونز کی شکل مخروطی ہوتی ہے جب روشنی ریٹینا (retina) پر پڑتی ہے تو وہ کوئنز اور راڈز کو متحرک کر دیتی ہے۔کونز کا سب سے بڑا اور بنیادی کام روشنی کو مختلف رنگوں میں تقسیم کرنا ہے۔اگر ان میں کوئی خامی ہو تو آدمی کلر بلائینڈ ہو جاتا ہے۔دن کی پوری روشنی میں کونز بصارت کے تمام افعال سرانجام دیتی ہیں۔اس وقت راڈ ز بظاہر بیکار ہو جاتے ہیں مگر ہلکی روشنی یا تاریکی میں ان کی ایک خاص اہمیت ہے۔مدھم روشنی یا مکمل تاریکی میں راڈز ہی بصارت کا کام دیتے ہیں۔لیکن وہ صرف سفید اور سیاہ میں تمیز کر سکتے ہیں۔ان حالات میں کوئز بالکل کوئی کام