الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 461 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 461

الهام ، عقل ، علم اور سچائی 441 صرف یہی مطالبہ ہے کہ وہ انتخاب طبعی کو تخلیقی عوامل سے خلط ملط نہ کریں۔ڈالفن یا چمگادڑ کے تعلق میں کونسے تخلیقی عوامل کار فرما تھے اور ان تخلیقی عوامل نے کس طرح اس نظام کو کمال تک پہنچایا۔نیز ڈارون کے اصولوں نے ان ارتقائی عوامل کو موجودہ مکمل صورت تک پہنچانے میں کس طرح تخلیق کے ہر قدم پر ان کے مخفی خالق کی مدد کی؟ اب ہم بصارت کی جس پر گفتگو کرتے ہوئے انسانی آنکھ کا مختصر سا جائزہ لیتے ہیں۔جیسا کہ ہم ثابت کریں گے کہ یہ ایک نہایت نازک اور پیچیدہ عضو ہے۔لہذا قدرت نے بڑی احتیاط سے اس کی حفاظت کا بندوبست کیا ہے۔چنانچہ کھوپڑی کی ہڈی آنکھ کے پچھلے حصہ کی حفاظت کرتی ہے جبکہ پوٹے اور چیلیں آنکھ کے سامنے والے نصف اور اندرونی حصہ کی حفاظت کرتی ہیں۔ایک جھلی آنکھ کے اندرونی حصہ کو اس کی پتلی سے الگ کرتی ہے جس پر اپنی تھیلیئم (epithelium) کی ایک اور جھلی موجود ہوتی ہے جو باہر سے آنکھ میں داخل ہونے والے بیکٹیریا کو تلف کرتی ہے۔اگر باہر سے کوئی چھوٹی سی چیز بھی آنکھ میں داخل ہو جائے تو قدرت کا حفاظتی نظام فوراً فعال ہو جاتا ہے۔چنانچہ پوٹوں کی تیز حرکت اور آنسوؤں کے غدود (tcar glands) آنسوؤں کے اخراج سے جن میں جراثیم کش خامرے شامل ہوتے ہیں، اس چیز کو باہر نکال پھینکنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔پھر یہ آنسو ساکٹ (socket) کے نچلے کونوں میں موجود مخصوص نالیوں میں داخل ہو جاتے ہیں جو انہیں آگے نتھنوں تک پہنچا دیتی ہیں۔آنکھ کی پتلی اپنے مخصوص خانہ میں چربی کے حفاظتی گڈوں (cushions) میں پیوست ہوتی ہے اور دوہرے عضلات کے ذریعہ ساکٹ سے جڑی ہوتی ہے جو ساکٹ کے اندر سے لے کر آنکھ کی پتلی تک پھیلے ہوئے ہیں۔یہی عضلات آنکھ کو حرکت دیتے ہیں۔آنکھ تقریباً ایک کرہ کی شکل میں ہوتی ہے جس کی پتیلی کی دیواریں تین تہوں پر مشتمل ہوتی ہیں۔1۔Sclera یہ بیرونی تہ مضبوط، سفید رنگ کی بافت پر مشتمل ہوتی ہے جسے آنکھ کی سفیدی بھی کہا جاتا ہے۔یہ حصہ سامنے سے کچھ ابھرا ہوا اور شفاف دکھائی دیتا ہے۔اسے کارنیا (comea) کہتے ہیں۔