الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 458
440 عضویاتی نظام اور ارتقا میلن (melon) کہتے ہیں۔جب ہوا شدید دباؤ کے تحت اس سے ٹکراتی ہے تو ایک عجیب اور نا قابل فہم رد عمل پیدا ہوتا ہے۔چربی کا گومڑ ایک عمدہ sonar مشین میں تبدیل ہو جاتا ہے اور ایک صوتی آلہ (sound lens) کے طور پر کام کرنے لگتا ہے جس میں سے آواز کی ایسی لہریں نکلتی ہیں جن کے ذریعہ گدلے پانی یا کیچڑ میں بآسانی بغیر کسی خلل کے حرکت ممکن ہو جاتی ہے۔ڈالفن کے میلن سے ایک سیکنڈ میں آواز کی سات سولہریں نکلتی ہیں جو ٹھوس اشیاء سے ٹکرا کر گونج کی صورت میں واپس آتی ہیں۔ڈالفن کا دماغ ایسی گونج کے پیغام کو اچھی طرح سمجھ کر اپنے اور اس چیز کے درمیانی فاصلہ اور اس کی ہیئت کا مکمل اندازہ لگا سکتا ہے۔نیز ڈالفن کچھ فاصلہ سے کسی دھاتی شے کو نہ صرف محسوس کر سکتی ہے بلکہ اس کے بھرے یا خالی ہونے کا اندازہ بھی لگا سکتی ہے۔اسی طرح یہ جاندار اور بے جان اشیاء میں بھی تمیز کر سکتی ہے۔مزید برآں ڈالفن کھلے سمندروں میں میلوں دور تک اس sonar نظام کی مدد سے مچھلیوں کے جھنڈ (shoals) تک پہنچ کر انہیں یکے بعد دیگرے نگل لیتی ہے۔4 کیا انتخاب طبعی ایک پیچیدہ sonar نظام اور دماغ میں اس کے متوازی لہریں موصول کرنے والا نظام تخلیق کر سکتا ہے جو گونج کے پیغام کو ٹھیک ٹھیک سمجھ سکے۔کیا انتخاب طبعی کا کوئی نمائندہ چربی کا ایسا لوتھڑا تیار کر سکتا ہے جو آواز کی لہروں کو ایک خاص سمت میں پھینک سکے؟ ذرا دہ چربی کے اس لوتھڑے سے آواز کی ایک لہر تو پیدا کر کے دکھائے خواہ اسے جدید ترین ٹیکنالوجی کی مدد ہی کیوں نہ حاصل ہو۔بایں ہمہ ڈالفن کا میلن (melon) ایک سیکنڈ میں سات سوایسی لہریں پیدا کرسکتا ہے۔چارلس ڈارون جو دور کی کوڑی لائے ہیں اور جس نے بقول ماہرین حیاتیات زندگی کا معمہ حل کر دیا ہے دراصل تین مردہ اصولوں پر مشتمل ہے یعنی جہد للبقاء۔بقائے اصلح اور انتخاب طبیعی جن سے زندگی تشکیل پاتی ہے۔لیکن ماہرین حیاتیات یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ تین اصول مردہ ہونے کے ساتھ ساتھ بہرے گونگے اور اندھے بھی ہیں۔یہ اصول زندگی کے خالق نہیں ہیں بلکہ صرف اسی صورت میں کار فرما ہوتے ہیں جب خالق نے کوئی چیز پہلے سے ہی تخلیق کر رکھی ہو۔ماہرین حیاتیات کو سب سے پہلے تو ڈالفن کے سمعی نظام کے تخلیقی عوامل کی وضاحت کرنا ہوگی۔اس کے بعد ہی وہ بتا سکتے ہیں کہ انتخاب طبعی کس طرح ان تخلیقی عوامل پر اثر انداز ہوا ہو گا۔ہمارا ان سے