الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 448
434 عضویاتی نظام اور ارتقا انتہائی حماقت کا نمونہ تصور کیا جاتا ہے۔اقو اگر عقلمند ہو بھی تو کوئی عقلمند ترین انو بھی کسی قسم کا کوئی سمبھی نظام وضع نہیں کر سکتا تھا چہ جائیکہ اپنے کان جیسا انتہائی فعال نظام وضع کر سکتا۔اس کے کان کے منفر داور بینظیر نقوش کو واضح کرنے کیلئے ہمارا مشورہ ہے کہ قاری اس نظام کا موازنہ انسان کے سمعی نظام سے کرے۔اکثر جانوروں کی طرح انسانی کان بھی دو receptors پر منقسم ہے۔اکثر جانوروں کی ترقی یافتہ انواع میں ویسا ہی نظام پایا جاتا ہے جو اسی طرح کام کرتا ہے۔دونوں کانوں کے ذریعہ موصول ہونے والی آواز کی لہروں کو دماغ ہم آہنگ کر کے ایک آواز بنا دیتا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ یہ آواز کس سمت اور کتنے فاصلہ سے آ رہی ہے۔ایک کان سے اونچا سنے والوں کیلئے آواز کامل وقوع معلوم کرنا ہمیشہ مشکل ہوتا ہے۔دونوں کانوں کا الگ الگ جگہ واقع ہونا ان کے ڈیزائنر کے کمال کا اعتراف ہے لیکن ماہرین حیاتیات، سمعی انجینئر نگ کے اس عظیم شاہکار کے بارہ میں کسی ڈیزائن کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے۔لیکن اگر کوئی ان سے یہ کہے کہ یہ واقعی بلا کسی با مقصد ڈیزائن کے تخلیق ہوئے ہیں اور ان کی تخلیق میں بعض اندھے اصولوں کا حصہ ہے تو وہ خوشی سے کھل اٹھیں گے اور کہیں گے کہ ہاں ! اب تمہیں سمجھ آگئی ہے کیا کسی عقلمند اتو کی مسکراہٹ ایسے موقع پر ان کی مسکراہٹ سے کچھ مختلف ہوگی ؟ مگر یہاں ہم اس نکتہ کو مزید واضح نہیں کرنا چاہتے۔الو کے کان نہ صرف اس پیچیدہ نظام کا حصہ ہیں بلکہ وہ تمام جانوروں کے کانوں میں ایک ممتاز مقام رکھتے ہیں۔دائیں اور بائیں طرف کے بیرونی کان اپنی پوزیشن میں ایک دوسرے سے ذرا مختلف ہیں۔ان کی پوزیشن میں یہ ذرا سا فرق ایک خاص مقصد کے حصول کیلئے ایسی باریکی اور احتیاط سے رکھا گیا ہے کہ اس پیچیدہ نظام میں ذراسی اتفاقی تبدیلی سے بھی یہ بیکار ہو جاتے۔بیرونی کان آواز کی لہریں اندرونی کان کو فراہم کرتے ہیں جنہیں باوجود بہت پیچیدہ ہونے کے دماغ کامل طور پر سمجھ لیتا ہے۔یہ سارا طریق اتنا بیشل اور نپا تلا ہے کہ اتو گہری تاریکی میں بھی کسی غلطی کے بغیر اپنا شکار تلاش کر لیتا ہے۔اتو کی اس غیر معمولی صلاحیت سے متاثر ہو کر دنیا کے سائنسدانوں نے نہایت حساس الیکٹرانک آلات کی مدد سے اس کے سمعی نظام کی تعیین کا عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ہمارے علم