الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 447
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 433 پڑنے پر کیسے ہماری سوچ کے افق پر نمودار ہو جاتے ہیں۔بغیر کسی ظاہری توقف کے یک لخت ایسا وقوع پذیر ہو جانا بھی ناممکنات میں سے ہے سوائے اس کے کہ اسے اس مخصوص کام کیلئے بنایا گیا ہو۔اس قسم کے ہر پیغام کو متحضر کرنے کیلئے ایسے اعلی کمپیوٹر کی ضرورت ہے جو انسان کے اب تک کے بنائے ہوئے کمپیوٹر سے زیادہ عظیم الشان اور جامع ہو۔اگر ہم اپنے بچپن کے کسی ایسے طحہ کا تصور کریں جب ہم اپنے گرد کسی انسان یا جانور کی آواز پر ہنس دیتے تھے تو عین ممکن ہے کہ ستر سال بعد اس سے ملتی جلتی آواز سن کر ہمارے دماغ میں محفوظ پرانی یادیں اچانک تازہ ہو جائیں اور ہم دوبارہ اسی طرح مسکرا دیں۔ملتی جلتی آوازوں کا یہ نظام اتنی باریکی اور عمدگی سے تشکیل دیا گیا ہے کہ اس نے آواز کی خصوصیات (acoustics) کے علم کے بڑے بڑے ماہرین کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا ہے۔کیا ڈارون کا کوئی حامی کبھی اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ اس قدر دقیق سمعی نظام انتخاب طبعی کی اندھی قوتوں کی تخلیق ہے؟ لیکن ہم ان کی الگ انفرادی تخلیق کی بات نہیں کر رہے۔سب سے حیران کن اور حل طلب مسئلہ یہ ہے کہ سمعی نظام کے مختلف اجزاء اپنی الگ الگ حیثیت رکھنے کے باوجود با ہم کیسے مربوط ہیں۔جو نہی بیرونی کان کا ارتقا شروع ہوا اتفاق سے ایک عصب خود بخود پیدا ہونا شروع ہو گیا اور انہی قوتوں کے زیر اثر اسی قسم کے مزید اعصاب بننے لگے، ہر کوئی دوسرے سے بالکل الگ اور اپنے آپ کو تشکیل دینے کی صلاحیتوں سے عاری اور کسی مقصد اور منصوبے کے بغیر۔اس کے باوجود ہر عصب بجائے خود ایک عظیم الشان منصوبہ ہے اور وسیع تر اجتماعی مقصد بھی سرانجام دے رہا ہے۔ہمیں اس گونا گوں مشکل کا سامنا ہے جس کا تعلق ایک واحد عضو یا اعضاء کے ایک مجموعہ سے ہے جن میں سے ہر ایک حس سماعت کیلئے ضروری ہے۔ہم نے نہ صرف انسانی کان اور اس کے پیچیدہ عضویاتی نظام کو زیر بحث لانے کا وعدہ کیا تھا بلکہ بعض جانوروں کے کانوں کے بارہ میں گفتگو کا ارادہ بھی ظاہر کیا تھا جن کی پیچیدگیوں کی حدو نہایت نہیں۔اور ان میں سے بعض کان ایسے ہیں جو ماہرین کیلئے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہ ایسی منفر و صلاحیتیں رکھنے والے کانوں کی اپنے ڈرائنگ بورڈ پر کس طرح نقشہ کشی کریں۔آئیے ! اتو سے بات شروع کرتے ہیں جو مغرب میں عقل و فہم کی علامت لیکن مشرق میں