الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 446
432 عضویاتی نظام اور ارتقا بلکہ کھربوں سالوں میں درجہ بدرجہ ترقی کرتا ہوا یہاں تک پہنچا؟ کیا سائنسدان حیاتیات، فزکس اور کیمسٹری کے بارہ میں اپنے تمام تر موجودہ علم کی مدد سے صرف اس عضو کی ساخت ڈیزائن کر سکتے ہیں جو سماعت کی صلاحیت رکھتا ہو؟ اب جبکہ انہیں کھوپڑی کی کھوکھلی ہڈی کے بارہ میں علم ہے جس میں labyrinth گزرتا ہے تو کیا وہ اس کو دیکھ کر کسی ایسے مواد سے جو انہوں نے خود بنایا ہو اس کی نقل بنا سکتے ہیں؟ کیا وہ دیانتداری سے سمجھتے ہیں کہ ایسی محیر العقول شے اپنی تمام تر باریک خوبیوں کے ساتھ بغیر کسی مقصد کے محض ایک بے دماغ انتخاب طبعی کے زیر اثر تخلیق ہو گئی ہو؟ قدرت کی بے مہار طاقتیں انسانی کان جیسا عجوبہ از خود بنانے میں جتنا وقت لیں گی اسی قدر اس کو منظم کرنا اور مختلف حصوں کو کارآمد ترتیب میں لانا ناممکن ہوتا جائے گا۔لہذا ایک ایسی باشعور ہستی کی ضرورت ہے جسے قوانین قدرت کا مکمل اور اک ہو جنہیں استعمال کر کے انسانی کان جیسا عضو تخلیق کیا جاسکے۔کان کا بیرونی حصہ جس پر ہم بحث کر چکے ہیں اندھے ارتقا کے قائلین کیلئے صرف یہی ایک مسئلہ نہیں ہے۔اب ہم کان میں موجود اعصاب کا جائزہ لیتے ہیں جو موصول شدہ پیغامات کو آگے لے جاتے ہیں۔ان کی تخلیق بھی فی ذاتہ شعوری ڈیزائن کے بغیر ممکن نہیں۔ان کی تخلیق کیلئے موزوں مادہ کی تیاری نیز بجلی کے کرنٹ کا ضرورت کے عین مطابق مہیا کیا جانا بھی ضروری ہے۔اعصابی جھلی ایک خاص قسم کے مادہ سے بنی ہوئی ہونی چاہئے جو اعصاب اور بیرونی ماحول کے درمیان بطور حاجز کام کرے اور اعصاب کو شارٹ سرکٹ ہونے سے بچائے۔یہ اعصاب اندرونی کان کی مناسب جگہ پر جڑے ہوئے ہونے چاہئیں اور دوسرے سرے کا مرکز دماغ یعنی سیر برم (cerebrum) کے مخصوص حصہ کے ساتھ جڑا ہونا ضروری ہے تا کہ ہلکے سے ارتعاش کو بھی مرکز دماغ تک پہنچا سکے جہاں ان مرتعش لہروں کو مجموعی صورت میں پڑھ کر سیر برم کیلئے پیغام مکمل کرنا ممکن ہو سکے۔فی الحال ہم سیر برم کی تفصیلات بیان نہیں کر رہے جہاں تک کسی ماہر سائنسدان کی رسائی بھی ممکن نہیں۔سیر برم کیسے تخلیق ہوا۔یہ اپنا کردار کیسے ادا کرتا ہے؟ با مقصد پیغام کو جو اس نے pulse یا برقی پیغام کی صورت میں پڑھا ہوتا ہے آگے دماغ میں کس طرح پہنچاتا ہے اور ایک زندہ بدن میں یہ پیغام کیسے پہنچ جاتا ہے؟ ایسے پیچیدہ امور کا از خود وقوع پذیر ہونا ناممکن ہے۔آخر کس طرح یہ پیغامات یادداشت کے متعلقہ اربوں خلیات میں محفوظ ہو جاتے ہیں اور ضرورت