الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 441 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 441

عضویاتی نظام اور ارتقا طبی اصطلاح میں عضو جسم کے ایسے خاص حصہ کو کہا جاتا ہے جس کے سپر د کوئی معین فنکشن یا کام ہو۔انسانی جسم میں بہت سے ایسے اعضاء ہیں جن کا بغور مطالعہ اس بات کی تعیین کیلئے ضروری ہے کہ آیا وہ ایک لمبے عرصے میں بتدریج ارتقا پذیر ہوئے ہیں یا بقول بعض مذہبی علماء کے اچانک اپنی کامل صورت میں پیدا کئے گئے۔مذہبی علماء ڈارون کے مخصوص نظریہ ارتقا کی فی ذاتہ نفی تو کرتے ہیں جبکہ ہمارا اصرار اس بات پر ہے کہ وہ ارتقا کی فی ذاتہ یکسر نفی نہیں کرتے۔ماہرین حیاتیات اس بات کے سمجھنے سے قاصر رہے ہیں کہ ان کے اور ارتقائیوں کے مابین اصل اختلاف فقط یہی ہے۔مذہبی علماء جن میں سے اکثر کا وہ حوالہ دیتے ہیں دراصل عیسائی علماء کا دو انتہا پسند طبقہ ہے جو ہر سطح پر ارتقا کی نفی کرتا ہے اور اس کی بجائے اچانک مکمل تخلیق کا قائل ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر جانور علیحدہ طور پر اپنے تمام تر اعضاء کے ساتھ تخلیق کیا گیا۔لیکن قرآن کریم تخلیق کے بارہ میں ہرگز یہ نظریہ پیش نہیں کرتا جیسا کہ ہم اس کتاب میں وضاحت کرتے چلے آ رہے ہیں۔قرآنی نقطہ نظر عیسائیوں میں پائے جانے والے اس قسم کی تخلیق کو ماننے والوں کے نقطہ نظر سے مختلف ہے۔چنانچہ جب ہم اعضاء کی تخلیق اور نشو ونما کی بات کرتے ہیں تو ہمارے نقطہ نظر کو ان لوگوں کے نقطۂ نظر سے خلط ملط نہیں کیا جانا چاہئے۔تاہم نامیاتی نظام میں یہ بات تو نینی ہے کہ ابتدائی حالت میں اس کے اندر درج ذیل چار باتیں بیک وقت پائی جاتی ہیں۔1۔کسی بھی عضو کا بیرونی حصہ بجائے خود organ یعنی عضو کہلانے کا مستحق ہے۔2۔پیغام رسانی کا نظام یعنی عصبی ریشوں کی تخلیق جو بیرونی عضو سے حاصل شدہ اطلاعات کی نقل و حمل کا کام سرانجام دیتے ہیں۔3 شناخت کے انتہائی پیچیدہ نظام کی تخلیق (جسے ہم دماغ کا مخصوص حصہ قرار دیتے ہیں ) کا کام یہ ہے کہ اطلاعات کو موصول کرے، پیغام کی تمام جہتوں کا جائزہ لے اور پیغام کی حقیقی تصویر کشی کرے۔427