الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 431
کرۂ ارض پر زندگی کا مستقبل کیا ارتقا کی آخری منزل انسان ہے یا اس کے بعد کوئی اور مخلوق ظاہر ہو گی ؟ کیا اس امر کا امکان ہے کہ دور حاضر کے انسان سے ایسی نوع بشر جنم لے جو زیادہ ترقی یافتہ اور زائد حسیات کی مالک ہو نیز نئی جہات کا فہم و ادراک رکھنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ ذہنی صلاحیتوں میں ترقی کرنے کی استعداد بھی رکھتی ہو؟ مزید برآں کیا یہ ممکن ہے کہ یہ نئی نوع حیات ایک بالکل مختلف شکل وصورت اور کلیہ نئے طرز زندگی کے ساتھ ظاہر ہو؟ ہمارے علم کے مطابق اسلام کے علاوہ کسی اور مذہب نے سرے سے ان سوالات کو چھیڑا ہی نہیں۔جہاں تک ماضی کے فلسفیوں اور دانشوروں کا تعلق ہے تو یہ امور ان کی ذہنی استعداد سے ماوری تھے حتی کہ جدید سائنس نے بھی اس مسئلہ کو مبہم سے انداز میں بیان کیا ہے نہ ہی ان امکانات کا جائزہ لینے کیلئے با قاعدہ علمی تحقیق کا کوئی معین طریق کار وضع کیا گیا ہے۔یہ قرآن کریم ہی کی امتیازی شان ہے کہ وہ نہ صرف اس قسم کے سوالات اٹھاتا ہے بلکہ ان کا حل بھی پیش کرتا ہے۔نیز ایسے امکانات کے بارہ میں پیش گوئی بھی فرماتا ہے۔البتہ حیات بعد الموت کا مسئلہ قدرے مختلف ہے جس پر تمام بڑے مذاہب نے روایتی انداز میں بحث کی ہے۔تاہم کسی مذہب نے مفروضہ کے طور پر بھی قیامت سے پہلے یا بعد میں نوع انسانی کے کسی اور شکل وصورت میں ارتقا پذیر ہونے کا امکان پیش نہیں کیا۔یہاں ہم قاری کو یاد دلانا چاہتے ہیں کہ اگر چہ دیگر الہامی کتب میں بھی قیامت کا ذکر پایا جاتا ہے لیکن قرآنی اصطلاح اپنے معانی اور اطلاق کے لحاظ سے اپنے اندر بہت وسعت رکھتی ہے۔قرآن کریم نے مستقبل کے کئی ایک عہد ساز اور عظیم الشان انقلابات اور تغیرات کا پیشگوئی کے رنگ میں ذکر فرمایا ہے۔ان سب کیلئے قیامت یا اس کے مترادف ”ساعت“ کی اصطلاح ” استعمال کی گئی ہے۔اگر چہ ان اصطلاحات کے معانی معروف لفظ "یوم الحساب پر بھی دلالت 417