الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 423 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 423

شطرنج کی بازی یا اتفاقات کا کھیل اے قسمت کا چوگان کھیلنے والے، چپ رہو، سیدھا چلتے رہو اور کچھ نہ کہو! جس ہستی نے تمہیں اس جہانِ تگ و دو میں بھیجا ہے وہی بہتر جانتا ہے، وہی بہتر جانتا ہے۔یہ حقیقت ہے نہ کہ مجاز ، کہ ہم مہرے ہیں اور چرخ گردوں شطرنج کی بازی کھیلنے والا۔ہماری حیثیت بساط ہستی پر شطرنج کے مہروں کی سی ہے جو ایک ایک کر کے عدم کے صندوق میں بند ہوتے چلے جارہے ہیں۔2 موت اور حیات کے اس ڈرامہ کا تصور کیجئے جو آغاز ارتقا سے آج تک کھیلا جا رہا ہے۔پردہ کے اٹھنے پر آپ کیا دیکھتے ہیں؟ کیا یہ ایک ایسی اندھی کائنات ہے جو اتفاقات کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے یا اس سے بالکل مختلف کوئی اور منظر آپ کی آنکھوں کے سامنے آتا ہے؟ یہ خیال رہے کہ ڈرامہ تو ایک ہی ہے اور اس کے کردار بھی وہی رہتے ہیں۔کیونکہ منظر کی تبدیلی کا تعلق تو صرف دیکھنے والی آنکھ سے ہے۔اگر دیکھنے والے کی نظر تعصبات اور دہریت کے خیالات کی وجہ سے دھندلا گئی ہو تو بلاشبہ اسے یہی دکھائی دے گا کہ بے ترتیبی، بدنظمی اور فساد کی کوکھ سے نہایت منضبط اور معلم نظام جنم لیتا ہے اور نسلاً بعد نسل ایسا ہی ہوتا چلا آ رہا ہے۔چنانچہ عمل انتشار اور ابتری سے بلا استثناء ہر بار نظم وضبط ہی پھوٹتا چلا آتا ہے۔پس ارتقا کا یہ کھیل کسی منتظم ذہن کے عمل دخل کے بغیر ہی ابتری اور انتشار سے تنظیم و ترتیب کی طرف رواں دواں ہے۔تا ہم ترتیب نے ہر مرتبہ بے ترتیبی سے جنم لیا۔یہاں تک کہ ارتقا کا شاہکار انسان وجود میں آ گیا۔کیا بے ترتیبی اور بدنظمی کا ابے ماحصل ایسا ہی ہوتا ہے؟ اس کے برعکس اگر دیکھنے والا تعصب سے پاک ہو کر اس سمت میں اپنی نظر دوڑائے جس طرف یہ نظام تخلیق رہنمائی کرتا ہے تو یہی کھیل اس کیلئے ایک نیا منظر پیش کرے گا۔یعنی ارتقائے حیات کے اس سفر کے دوران ہر قدم پر ہونے والی پیچیدہ اور منتظم تبدیلیوں کے پس پردہ 409