الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 416
404 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح کے عام لغوی معنی جس کی طرف گزشتہ مترجمین کی توجہ ہی نہیں گئی یہ ہیں اور یہ ( مچھر ) جو چیز اٹھائے ہوئے ہے۔جب قرآن کریم زمین اور جو کچھ یہ اٹھائے ہوئے ہے، کا ذکر کرتا ہے تو وہاں بھی ” فوق“ کا لفظ ہی استعمال فرماتا ہے۔چنانچہ عربی محاورہ وما فوق الارض کے معنی یہ ہوں گے : اور جو کچھ زمین پر موجود ہے۔اس بیان کی روشنی میں زیرہ بحث آیت کا لغوی ترجمہ یہ ہوگا : ”اللہ ہر گز نہیں شرماتا کہ کوئی سی مثال پیش کرے جیسے مچھر کی بلکہ اس کی بھی جو اس کے اوپر ہے یا جو کچھ یہ اٹھائے ہوئے ہے۔“ اب ہم بخوبی جانتے ہیں کہ گزشتہ مفسرین نے مندرجہ بالا لغوی معنی کیوں بیان نہیں کئے۔دراصل وہ اس بات کا تصور ہی نہیں کر سکتے تھے کہ مچھر کے اوپر انسانی آنکھ سے نظر نہ آنے والے وائرس موجود ہیں۔رہا یہ سوال کہ انتہائی اہمیت کی حامل اور بیماری پھیلانے والی اس مخلوق کی تخلیق پر اللہ تعالیٰ کیوں خفت محسوس نہیں کرتا؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس مچھر کی تخلیق میں ایک اہم مقصد مضمر تھا یعنی حیات کے وسیع منصوبہ کی مختلف جہات میں توازن کا پیدا کرنا۔ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اس اڑنے والی انوکھی مشین کی تخلیق اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ دراصل اس کا خالق ہی کامل حمد کا سزاوار ہے۔میرے نزدیک مچھر نے زندگی کے دفاعی نظام کو فروغ دینے میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ہمارے علم کے مطابق اس نوعیت کی ایک مثال sickle cell anaemia کی بیماری سے تعلق رکھتی ہے جو گیمبیا کے باشندوں میں عام پائی جاتی ہے۔اس بیماری میں مبتلا مریضوں میں ملیریا کی مہلک اقسام کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہو جاتی ہے۔تاہم یہ بات انہونی نہیں کہ مچھر کے ذریعہ پھیلنے والی بیماریوں سے حاصل ہونے والے بہت سے نامعلوم فوائد میں سے دفاعی نظام کا ارتقا ایک اہم پہلو بھی ہے۔خواہ سمجھ میں آئے یا نہ آئے مگر قرآن کریم اس بات کا کھلا اظہار کرتا ہے کہ زندگی کو قائم رکھنے اور موت کی طرف لے جانے والے عناصر دونوں تخلیق کے منصوبہ کا اٹوٹ انگ ہیں۔دوسری حیرت انگیز بات جس کا ذکر ضروری ہے یہ ہے کہ مچھر اپنے اندر سینکڑوں بیماریوں کے جراثیم رکھنے کے باوجود خود کبھی بیمار نہیں پڑتا۔کبھی کسی ماہر حیاتیات نے مچھر کو ملیریا سے