الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 417
405 الهام ، عقل ، علم اور سچائی کپکپاتے ہوئے نہیں دیکھا، نہ ہی کبھی کسی نے چھر کوکسی ایسی بیماری میں مبتلا دیکھا ہے جسے یہ اپنے اندر یا اپنے پروں اور پاؤں پر موجود جراثیم کی وجہ سے آگے پھیلاتا ہے۔اس کے اوپر پائے جانے والے فیل پا کے وائرس نے کبھی اس کے ڈنک (probascis) پر حملہ نہیں کیا جس سے وہ ہاتھی کے بچہ کی سونڈ جیسی شکل اختیار کرلے۔مچھر کی تخلیق کے سلسلہ میں اس قدر سائنسی علم اور پیچیدہ تکنیک درکار ہے کہ انسان ابھی تک اس کا تنہا ڈنک تک تخلیق نہیں کر سکا۔مچھر آج کل کے کسی بھی مشہور اور تیز فہم جینیاتی انجینئر کے کان میں بھنبھنا کر اسے مقابلہ کیلئے للکار سکتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو وہ آگے بڑھ کر اسے قابو میں لے لے یا اسی کی طرح کا ایک اور مچھر بنا کر دکھائے۔مگر افسوس کہ دنیا کے تمام مچھر اس دہریہ کومل کر بھی کاٹیں تب بھی اسے اس کے ملحدانہ تصور سے باہر نہیں نکال سکتے۔اس لئے انہیں اڑنے اور اپنے اپنے راگ الاپنے دیں کیونکہ نہ تو بہرے ان کی بھنبھناہٹ سن سکتے ہیں اور نہ ہی اندھے معین انہیں دیکھ سکتے ہیں۔خلاصہ بیان کے طور ایک بار پھر ہم واضح کرتے چلیں کہ جانوروں کی تمام انواع کی خصوصیات اور خدو خال خلیوں کی جینیاتی علامات میں موجود مخفی پیغام کو نہایت مربوط اور مع طریق پر ظاہر کرتے ہیں۔خلیوں میں موجود لحمیات ان کیلئے بطور محافظ فرشتوں کے ہیں۔مخصوص کردار کے حامل دھا گے ( strands) جن سے تمام جانداروں کے RNA - DNA جسمانی اور تولیدی خلیات بنتے ہیں بیرونی ماحول اور اس کے اثرات سے بکلی آزاد ہوتے ہیں۔بے شعور ماحول کے پاس ایسا کوئی نظام نہیں جو زندگی کے جینیاتی محافظوں پر اپنا علم چلا سکے۔نہ تو زندگی کے جینیاتی محافظ اس قابل ہیں کہ وہ از خود اپنی تشکیل کر سکیں اور نہ ہی وہ اپنے اندر پائے جانے والے امینوایسڈز کی اس معین ترتیب کو قائم رکھ سکتے ہیں جن میں معمولی سی گڑ بڑ بھی زندگی کی تمام بنیادی اکائیوں اور ان کی تمام تر غرض و غایت اور تخلیقی صلاحیت کو برباد کر سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ متعدد سائنسدانوں کی رائے میں زندگی کی بنیادی اکائیوں کی تخلیق محض اتفاق کے نتیجہ میں کھرب با سال میں بھی ممکن نہیں تھی۔اس کے باوجود زندگی کی بنیادی اکائیوں کی تخلیق بہر حال کسی نہ کسی طرح جاری ہے۔ان کا اپنا ایک الگ جہان ہے جو موسمی اور ماحولیاتی اثرات سے کلیہ بے نیاز ہے۔