الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 415
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 403 مادہ دونوں اپنی بقا کیلئے پودوں کے رس اور شکر پر گزارہ کرتے ہیں؟ کیا اس سارے عمل کا مقصد یہی نہیں کہ مادہ مچھر کو انڈوں کی تیاری اور ان کی خوراک کیلئے اپنے میزبان کے خون میں پائی جانے والی لحمیات کی ضرورت ہوتی ہے؟ یہ ایک ایسا عمل ہے جس کی نر مچھر کو قطعا ضرورت نہیں ہوتی۔انتخاب طبعی مادہ مچھر کو ہی یہ بات کیسے سکھا سکتا تھا کہ ان کے تولیدی اعضا کیلئے لحمیات ضروری ہیں؟ اس لئے انہیں خون چوسنے کیلئے ایک نہایت دید و نظام تشکیل دینا ہوگا۔مادہ مچھر پیچیدہ میں خون سے لحمیات حاصل کرنے کی جبلت پیدا ہونے سے پہلے مچھر اتنا لمبا عرصہ آخر کیونکر زندہ رہے؟ نیز مادہ مچھر کو اپنی جسمانی ساخت میں اہم اور بنیادی تبدیلیاں لانے اور اپنی بقا کے نئے انداز اختیار کرنے کیلئے apyrase جیسے حیرت انگیز خامرہ کی تیاری میں کتنا عرصہ لگا حالانکہ وہ اس خامرہ کے بغیر لکھوکھہا سال سے زندہ چلی آرہی تھی ؟ اس سوال کا صرف ایک ہی معقول جواب ہے کہ مچھر کی تخلیق اتفاقی طور پر انتخاب طبیعی کا جہ نہیں ہو سکتی بلکہ اسے خاص منصوبہ کے تحت ارادہ تشکیل دیا گیا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ نظام حیات میں مچھر کے منفی لیکن انتہائی اہم کردار کو اس طرح تشکیل دیا گیا ہے کہ اس کی جبلت میں جانوروں کے خون کی طرف طبعی میلان رکھ دیا گیا ہے۔مادہ مچھر کی خون چوسنے کی صلاحیت واضح طور پر عمل ارتقا میں پائی جانے والی مقصدیت پر روشنی ڈالتی ہے۔ماہرین ارتقا کے خیال میں انتخاب طبعی کے فیصلے بہر حال درست ہوا کرتے ہیں اور صرف وہی باقی رہتا ہے جو حیات کیلئے مفید ہو۔مچھر جو زندگی کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہے کیا واقعی انتخاب طبعی کی پیداوار ہے؟ اس کے برعکس قرآن کریم کے مطابق مچھر کے ذریعہ زندگی کو جو خطرات درپیش ہیں ان کی ایک معین اور وسیع غرض و غایت ہے۔اس منصوبہ کی ماہرانہ تکمیل اور اس کی لطیف صنعت اور کاریگری پر گفتگو ہو چکی ہے۔اب ہم قارئین کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ اس موضوع پر قرآنی آیت بجائے خود ایک علمی اور ادبی معجزہ ہے بالخصوص آیت کے الفاظ فما فوقها (البقرة:2 27) توجہ طلب ہیں۔اگر چہ آیت کے اس حصہ کا یہ ترجمہ بھی درست ہے کہ مچھر سے بھی بڑھ کر اسی طرح کے جانداروں کی تخلیق“ لیکن فوق“