الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 412
400 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح اس کے اندر ایک پمپ بھی ہوتا ہے جو خون چوس کر اسے معدہ تک پہنچانے نیز پودوں سے حاصل شدہ رس ، غذا کی نالی تک الگ الگ پہنچانے کا کام کرتا ہے۔ماہرین حیاتیات کی رائے میں کارڈیا (Cardia) جو غذا کی درمیانی نالی کا اگلا موٹا سرا ہوتا ہے، کے مخصوص عمل کے ذریعہ خون براہ راست غذا کی درمیانی نالی میں پہنچتا ہے۔نباتاتی رس وغیرہ پر مشتمل باقی ماندہ خوراک ڈائیورٹیسکلا (Diverticulla) میں پہنچ کر کچھ دیر وہیں پڑی رہتی ہے۔ڈنک کے اندر پائے جانے والے لعاب کے منفرد غدود ایک ایسا عجوبہ ہیں جن کی نظیر سارے عالم حیوانات میں نہیں ملتی۔اگر یہ غدود نہ ہوتے تو مچھر کے خون چوسنے کا سارا عمل ا کارت چلا جاتا۔ان غدودوں کے تیار کردہ لعاب میں ایک نایاب قسم کا کیمیائی عنصر پایا جاتا ہے جو خون کو جمنے سے روکتا ہے۔مثلاً جب کوئی شریان پھٹتی ہے تو خون میں پائے جانے والے پلیٹلیٹس (Platelets) چند ہی لمحوں میں وہاں پہنچ کر خون کو جمانے کا عمل شروع کر دیتے ہیں تا کہ رستا ہوا خون بند کیا جا سکے۔خون کو بطور خوراک استعمال کرنے کے عمل کو ممکن بنانے کیلئے مادہ مچھر کے لعاب میں apyrase نامی ایک خامرہ پایا جاتا ہے جو حیوانی بافتوں میں کمیاب ہے۔لیکن مچھر کے لعاب پیدا کرنے والے غدودوں میں بکثرت پایا جاتا ہے۔یہ کیمیائی عصر خون میں موجود پلیٹلیٹس کے عمل انجماد کیلئے بطور تریاق کے ہے۔اس سے بھی بڑھ کر حیران کن امر یہ ہے کہ مچھر کا نظام انہضام اور دوران خون اس نہایت خطرناک خامرہ سے مکمل طور پر محفوظ رہتا ہے۔یہ صرف وہیں استعمال ہوتا ہے جہاں اس کی ضرورت ہوتی ہے یعنی ڈنک مارنے والی جگہ پر۔تا ہم یہ خامرہ لعاب دہن میں موجود ہوتا ہے جس سے مچھر بڑی حد تک خشک پودوں کے اس کو تحلیل کر کے چوسنے کے قابل بناتا ہے۔کہا جاتا ہے کہ اس عمل کو آسان بنانے کیلئے مچھر کے منہ سے دھار کی شکل میں لعاب مسلسل بہتا رہتا ہے مگر اس کے باوجود لعاب میں پایا جانے والا apyrase خامرہ استعمال نہیں ہوتا کیونکہ رس میں خون نہیں پایا جاتا۔پھر یہ غیر استعمال شدہ خامرہ بآسانی ہضم کر لیتا ہے اور اس کے دوران خون کو کوئی نقصان بھی نہیں پہنچتا۔اس سے ہر شخص یہ نتیجہ اخذ کر سکتا ہے کہ یہ تخلیق محض اتفاقات کا ایسا کھیل نہیں جس کا دارو مدار انتخاب طبعی پر ہو بلکہ یہ تخلیق