الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 410 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 410

398 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح مرحلہ پر ( جو تلی کے دور حیات کے caterpillar کے مرحلہ کے مشابہ ہے ) فقار یہ جانوروں پر کسی قسم کا انحصار نہیں کرتے حالانکہ اس سے ان کی خون کی ضروریات بآسانی پوری ہو سکتی تھیں۔مزید برآں اگر ڈائنو سار ہی درحقیقت مچھر کے اولین میزبان تھے تو مچھر کا اچانک نرم جلد والے حشرات سے خوراک حاصل کرنے کی بجائے ڈائنو سار کی سخت جلد میں سوراخ کر کے خوراک حاصل کرنے کا عمل اور بھی نا قابل فہم دکھائی دیتا ہے۔سائنسدان خود اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ اس ارتقائی عمل کے دوران ایسی تبدیلیوں کی ضرورت تھی جو بالآخر حشرات کی بجائے خون سے خوراک حاصل کرنے کی انقلابی خاصیت پر منتج ہوئیں۔11 اس نظریہ کی تائید میں ان کی طرف سے جو وضاحت پیش کی جاتی ہے وہ محض اس قیاس آرائی پر مبنی ہے کہ مچھروں کی کسی نئی نسل نے حادثاتی طور پر اچانک ان نئے میزبانوں سے خوراک حاصل کرنا شروع کر دی جو پوشیدہ مرطوب گوشوں اور بلوں میں مشکل حالات میں اپنی گزر اوقات کیا کرتے تھے۔جیسا کہ آگے چل کر ثابت کیا جائے گا خون چوسنے کے عمل کیلئے مچھر میں بہت سی مخلو قسم کی خاص صلاحیتوں کی ضرورت ہوتی ہے جن کا باہم ایک دوسرے پر اتنا انحصار ہوتا ہے کہ یہ تصور کرنا بہت مشکل ہے کہ مچھروں کی خوراک حاصل کرنے کی صلاحیت میں حادثاتی طور پر اچانک تبدیلی رونما ہوگئی ہو۔یادر ہے کہ فقار یہ جانوروں کے خون کو بطور خوراک حاصل کرنے کے لئے مادہ مچھر کی اندرونی ساخت اور شکل وصورت میں تین بنیادی پہلوؤں کے لحاظ سے ارتقا ضروری تھا۔د۔مثلاً اس کے منہ کے حصوں کی اس طرح کی بناوٹ کہ وہ جلد میں سوراخ کر سکیں اس کی عضویاتی تبدیلیاں یعنی خون ہضم کرنے والے proteolytic یعنی انحلالی خامرے پیدا کرنا۔مزید برآں اپنے بنیادی طرز عمل میں تبدیلیاں کرنا یعنی خون رکھنے اور خون نہ رکھنے والے جانوروں میں تمیز کرنا۔12 یہ سارا عمل وسیع سائنسی علم اور تکنیکی مہارت کا محتاج ہے۔اپنے میزبان کو تلاش کر کے سیدھا اسے نشانہ بنانے کے جبلی نظام کے علاوہ مادہ مچھر کی خون چوسنے کی صلاحیت کیلئے ضروری تھا کہ وہ اعلیٰ درجہ کے متعد د حساس آلات سے لیس ہوتی جن میں سے ایک ڈنک (proboscis) بھی ہے جو اپنی ذات میں سات عجائبات عالم سے بھی