الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 404
392 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح ہیں۔یہ واحد مخلوق ہے جس کا ذکر اس پر زور تردید کے ساتھ آیا ہے کہ اس کی تخلیق اس کے خالق کیلئے کسی شرمندگی کا باعث ہو سکتی ہے۔جیسا کہ قرآن کریم فرماتا ہے: ان الله لا يسعى أن يُضرِبَ مَثَلًا مَّا بَعُوضَةً فَمَا فَوْقَهَا (البقرة 27:2) ترجمہ: اللہ ہرگز اس سے نہیں شرماتا کہ کوئی سی مثال پیش کرے جیسے مچھر کی بلکہ اس کی بھی جو اس کے اوپر ہے۔یہاں فوق کے لغوی معنی اوپر کے ہیں تاہم دیگر مترجمین نے اسے لغوی معنوں میں نہیں لیا۔اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ وہ اس بات سے بیخبر تھے کہ مچھر اپنے اوپر کیا کچھ اٹھائے پھرتا ہے۔مندرجہ ذیل سوالات سے قاری کے ذہن میں یقیناً اضطراب پیدا ہوگا۔کم از کم مجھے تو اس آیت میں موجود پیغام نے ہمیشہ منتخب کیا ہے اور دعوت فکر دی ہے۔سب سے پہلا سوال ذہن میں یہ ابھرتا ہے کہ خدا تعالیٰ کو آخر کیا ضرورت پڑی کہ وہ مچھر کی تخلیق کے ضمن میں شرمانے کی تردید کرے۔اس آیت کے علاوہ قرآن کریم میں کہیں بھی کسی اور مخلوق کے تعلق میں ایسی تردید نہیں کی گئی بلکہ ہر جگہ فخریہ انداز اختیار کیا گیا ہے۔کیا اس آیت میں مچھر کی تخلیق کے سلسلہ میں اختیار کیا گیا یہ غیر معمولی انداز اس حقیقت کی نشاندہی نہیں کر رہا کہ قرآن کریم قاری کی توجہ مچھر کے بظاہر بے حقیقت وجود کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہے؟ کسی ادنیٰ چیز کی تخلیق کے حوالہ سے شرمندگی یا خفت کی مذمت در اصل اس بات کی مذمت ہے کہ وہ بظاہر حقیر چیز حقیر نہیں۔یہ تردید انسان کو اس امر کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ وہ مچھروں کے بارہ میں اپنے رویہ پر نظر ثانی کرے۔اس حقیقت میں مندرجہ ذیل حقائق مضمر ہیں: (1) مچھر اس قدر بے حقیقت اور ادنیٰ نہیں ہے جتنا کہ اسے عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔(2) وہ بہت اہم کردار کا حامل ہے لیکن اسے ابھی تک پوری طرح سمجھا نہیں گیا اور ابھی اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ آئندہ جب بھی تحقیق کی جائے گی پھر کا کردار نہایت ضرر رساں اور خطرناک ثابت ہو گا۔اس حقیقت کو تسلیم کر لینے کے باوجود مچھر کی مصر تخلیق کے تعلق دیکھیں المنجد و المفرادت للراغب