الہام، عقل، علم اور سچائی

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 398 of 754

الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 398

388 نظرية انتخاب طبعی اور بقائے اصلح سب سے نچلے حصہ میں پہنچ جاتے ہیں جہاں بال نہیں ہوتے۔اور یوں اس بند پیندے میں گر کر ہلاک ہو جاتے ہیں اور ریزہ ریزہ ہو کر قیف میں موجود پانی کو لمیات اور نمکیات سے بھر دیتے ہیں۔اس خوراک کو یہ پودا اپنی بقا کی خاطر ہضم کر لیتا ہے۔یہ اندازہ لگانا مشکل ہے کہ اس انتہائی مربوط پھندے کی تکمیل سے پہلے قدرت کی کتنی اندھی کوششوں کو نا کامی کا منہ دیکھنا پڑا ہوگا۔اب ہم ایک اور مثال پیش کرتے ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ نباتاتی زندگی کے حق میں قدرت نے عالم حیوانات کے خلاف حالات کا پانسہ کیسے پلٹ دیا۔Trumpet-pitchor کے پھندے کی اوپر والی سطح پر موجود مومی چھلکوں پر چلنے والے جانوروں کے پاؤں چپک جاتے ہیں اور اس طرح وہ اپنا توازن کھو کر پانی سے بھرے ہوئے پیندے میں لڑھک جاتے ہیں۔اس عمل سے پیدا ہونے والا ارتعاش قیف کے ہضم کرنے والے غدودوں کیلئے ایک محترک کا کام دیتا ہے جس کے نتیجہ میں غدود فی الفور ایک طاقتور ہاضم رس خارج کرنا شروع کر دیتے ہیں۔اس طرح اس میں گرے ہوئے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے چند ہی گھنٹوں میں مکمل طور پر تحلیل ہو جاتے ہیں جبکہ مکھیوں کو تحلیل ہونے میں ایک یا دو دن درکار ہوتے ہیں۔صرف حشرات ہی ان گوشت خور پودوں کا شکار نہیں بنتے بلکہ Trumpets کا راجہ تو بچھوؤں اور چوہوں کو بھی ہڑپ کر کے ہضم کر سکتا ہے۔وینس فلائی ٹریپ (Venus fly trap) (ملاحظہ ہو پلیٹ نمبر 3 ) کا معاملہ اور بھی زیادہ پیچیدہ ہے کیونکہ یہ برقی توانائی سے چلتا ہے۔برقی لہریں کیسے پیدا ہوتی ہیں اور اس نظام کی نگرانی کون کرتا ہے۔یہ وہ راز ہے جسے سمجھنے کیلئے سائنسدانوں کی طرف سے کی جانے والی تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئی ہیں۔ڈارون کے حامی ماہرین ارتقا کی توجہ اس حیرت انگیز تخلیق کی طرف مبذول کراتے ہوئے ہم نہایت ادب سے استفسار کرتے ہیں کہ اس کا ارتقا کیسے ممکن ہوا ؟ گوشت خور پودے اور اس کے تمام ضروری اجزاء نیز ہضم کرنے والے خامروں کی تخلیق کے آخری کامیاب ارتقائی تجربہ سے پہلے کی ناکام کوششوں میں کتنی ہی نسلیں نابود ہو گئیں۔عام سبز پودوں کیلئے یہ مکن نہ تھا کہ وہ اپنی زندگی کے اس بالکل مختلف دور کا آغاز کر سکتے جب تک کہ وہ خوفناک شکار کرنے والی مشینوں کی شکل اختیار نہ کر لیتے۔ان دونوں کے مابین بعد المشرقین ہے۔اس انقلاب کے پایہ تکمیل تک پہنچنے