الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 381
الهام ، عقل ، علم اور سچائی 373 میں حاصل ہوا تھا۔آئیے آنکھوں کی تحقیق کے حوالہ سے اس امر کا جائزہ لیں کہ اندھے جینیاتی تغیرات ایک ایسی آنکھ کی ابتدائی شکل بنانے میں کیسے کامیاب ہوئے جو دیکھنے کی اہلیت رکھنے کے ساتھ ساتھ دکھائی دینے والی اشیاء کا عکس بھی دماغ کے پردہ پر منتقل کرنے کے قابل ہے۔اچانک ہونے والے تغیرات یا خلیات کے درجہ بدرجہ ارتقا میں اپنی ہی تخلیق کردہ اشیاء کے درہم برہم ہو جانے کے امکانات اس بات کی نسبت کہیں زیادہ ہیں کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گردو پیش کی بے ترتیب اشیاء میں خود بخود ہی ترتیب پیدا ہونے لگے۔محض اتفاق کے نتیجہ میں وجود میں آنے والے غیر مربوط تغیرات در حقیقت زندگی کی مربوط کیفیت اور ڈیزائن کو بری طرح بگاڑ سکتے ہیں۔مثلاً آنکھ۔ناک۔کان۔منہ۔زبان اور ان اعضا کے حسی خلیات کے مقام تبدیل ہو سکتے تھے۔ممکن تھا کہ چند نسلوں کے بعد حیات کی بعض انواع کی آنکھیں سر کے پیچھے یا پیٹ پر موجود ہوتیں یا ہر بغل کے اندر ایک آنکھ ہوتی۔ظاہر ہے کہ اتفاقات کے بہاؤ کو کون روک سکتا ہے اور کون اسے نظم وضبط کا پابند کر سکتا ہے؟ یہ کہنا بھی بے جانہ ہوگا کہ کان دیکھنے لگتے ، ناک بولنے اور زبان سننے لگتی۔ایڑیوں میں چکھنے اور سونگھنے کی حس پیدا ہو جاتی۔مختلف جانوروں میں سے کم از کم کچھ تو ایسے عجیب الخصت ہوتے جن کا کوئی مقصد نہ ہوتا۔لیکن ہم نے جہاں کہیں بھی قدرتی طور پر کان یا آنکھ کو ان کی مقررہ جگہ کے سواد دیکھا ہے ایسی تبدیلی کسی مقصد کے تحت ہی ہوا کرتی ہے اور غرض اس کی اس جانور کو تکلیف کی بجائے فائدہ پہنچانا ہوتا ہے۔لیکن یہ استثنائی صورتیں ہیں۔وہ قانون جو لاکھوں انواع حیات میں کارفرما ہے ایک ہمہ گیر اصول کے مطابق ہے۔جب ہم اتفاقات پر غور کرتے ہیں تو نتیجہ مختلف دکھائی دیتا ہے۔بعض بچے پیدائشی نقائص لے کر دنیا میں آتے ہیں۔لیکن افسوس کہ ان نقائص سے انہیں کبھی کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔آجا کر اتفاقات کا کھیل تو محض اتفاقات کا کھیل ہے۔اس کے علاوہ آپ کچھ نہیں کہہ سکتے۔آنکھ کی تخلیق میں در پیش ارتقائی مراحل پر غور کرنے کیلئے بہت جامع اور گہری تحقیق کی ضرورت ہے۔نیز جانوروں کے تمام اعضاء کے اس انتہائی پیچیدہ ارتقائی عمل کا انتہائی گہرائی سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔جو بجائے خود ہر جانور ایک کائنات صغیر کا حکم رکھتا ہے۔