الہام، عقل، علم اور سچائی — Page 358
352 بقا : حادثه یا منصوبه بندی ؟ جس حفاظتی نظام کا ہم یہاں ذکر کر رہے ہیں وہ زندگی کے تمام مدارج پر حاوی ہے۔خواہ وہ سطحی ہوں یا گہرے۔عمل ارتقا میں ممد حفاظت اور ترقی کا یہ منصوبہ ایک ایسا ابدی قانون ہے جو تمام فلسفہ حیات پر محیط ہے۔اگر ہم حیات کے آغاز سے حال تک نظر ڈالیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سفر میں بہت سے پر خطر مقام آتے ہیں۔اس کی مثال دلدل میں مناسب مقامات پر رکھے ہوئے پتھروں پر چلنے سے دی جاسکتی ہے۔کسی بے سمجھ اور اندھے مسافر کے کتنے امکانات ہیں کہ وہ بغیر غلط قدم اٹھائے ان خطرات سے بچ نکلے گا؟ اور اگر یہ مہلک فاصلہ اربوں قدم طویل ہو جہاں ہر پتھر کے گرد موت دلدل کی صورت میں منہ کھولے کھڑی ہو تو کون ہے جو اپنی آخری منزل پر حفاظت سے پہنچنے کی ضمانت دے سکتا ہے۔ہمیشہ صحیح سمت میں قدم اٹھانا اور بقا کی اگلی منزل پر مضبوطی سے قائم ہو جانا ایک ایسے اندھے مسافر کے لئے ایک بہت بڑا معجزہ ہے جو قدیم سے اتفاقات کے راستہ پر چل رہا ہے۔ارتقا تو یقیناً ہوا ہے، مگر یہ اندھا ارتقا نہیں۔اس سفر کے ہر دوراہے پر جانوروں نے کبھی بھی اپنا رستہ خود منتخب نہیں کیا۔اس راستہ میں کسی باشعور خالق کے منصوبہ کے بغیر کسی واضح منزل کا تعین ممکن ہی نہیں۔چنانچہ زندگی کا ہر قدم کسی بھی سمت میں اٹھ سکتا تھا۔صحیح سمت میں ایک قدم بھی اٹھنے کا امکان بہت کم تھا۔ہر قدم کا ہمیشہ صحیح سمت میں اٹھنا اور اربوں دفعہ اسی طرح ہوتے چلے جانا تا کہ وہ راستہ اختیار کیا جا سکے جو بالآخر انسان کی تخلیق پر منتج ہو، ایک ایسا محیر العقول افسانہ ہے جس پر کہانیوں والے بھوت پریت بھی اعتبار نہیں کریں گے۔اس کے باوجود بعض سائنسدان اس پر یقین رکھتے ہیں۔اگر خدا تعالیٰ کے وجود کو اس نہایت پیچیدہ نظام سے باہر نکال دیا جائے تو محض یہ سوال باقی رہ جاتا ہے کہ اس کائنات کا خالق آخر کون ہے؟ حیات سے خالی کا ئنات بلکہ چھوٹے سے سیارہ زمین پر موجود حیات کے عجائبات بھی ایک ایسے خالق کا تقاضا کرتے ہیں جس نے انہیں وجود بخشا اور بے انت پیچیدگیوں سے بھر دیا۔ہستی کباری تعالیٰ کے بغیر ان کی پکار ایک صدائے بازگشت کے سوا کچھ بھی تو نہیں۔انسان صرف ایک بات کا یقین کر سکتا ہے کہ حیات خود بخود پیدا نہیں ہوئی اور موت حیات کو جنم نہیں دے سکتی۔